Urdu book · اظہارِ دین

حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ نظریہ ارتقا کی توجیہ کے لیے ایک نیا ٹیکنکل لفظ (technical term) دیتی ہے۔ ارتقا کا روایتی تصور تبدیلیوں (mutations) کے اصول پر قائم تھا، یعنی نسل درنسل چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے جمع ہونے سے ایک نوع کا دوسری نوع کی صورت اختیار کر لینا ۔ کلاسکل تبدیلی (classical mutation) کا نظریہ اس سوال کا جواب نہیں دیتا تھا کہ خود یہ تبدیلی کیسے واقع ہوتی ہے۔ کیوں کہ کسی بھی ریسرچ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ بے شمار تبدیلیاں تدریجی (gradual) طور پر اپنے آپ ہو سکتی ہیں۔ نئی ریسرچ نے صرف یہ کیا ہے کہ اُس نے آتش فشانی انشقاق (volcanic eruption) پر قیاس کرتے ہوئے وہ نظریہ وضع کیا جس کو انھوں نے جنیناتی تبدیلی (genetic change) کا نام دیا ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلی تدریجی انداز میں نہیں ہوئی، بلکہ انفجاری انداز میں ہوئی: These are like volcanoes in the genome, blowing out pieces of تاہم اس نئی ریسرچ کے بعد بھی اصل مسئلہ بدستور باقی ہے ۔ یہ ریسرچ مفروضہ طور پر جو کچھ بتاتی ہے، وہ صرف تبدیلیوں کے وقوع کی مفروضہ توجیہ ہے، نہ کہ اس بات کی توجیہ کہ زمین کی محدود مدت میں بے شمار تبدیلیاں کیسے وقوع میں آئیں۔ ہماری زمین کی محدود مدت کی نسبت سے یہ نئی "تحقیق" بھی اتنہی نا کافی ہے، جتنا کہ قدیم کلاسکل توجیہ ۔ نظریہ ارتقا کا یہ دعویٰ ہے کہ واحد الخلیہ (single cellular) امیبا میں تبدیلیاں ہوئیں، اس کے بعد وہ کثیر الخلیہ (multi-cellular) حیوان بن گیا۔ مچھلی کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ چڑیا بن گئی۔ بکری کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ زرافہ بن گئی۔ بلی کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ شیر بن گئی۔ بندر کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ انسان بن گیا۔ مذکورہ نئی تحقیق صرف یہ کرتی ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کو تدریجی نوعیت کی تبدیلی قرار دینے کے بجائے اُن کو انفجاری نوعیت کی تبدیلی بتاتی ہے ۔ مگر اس نئی "تحقیق" کے بعد بھی یہ سوال باقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page