اظہارِ دین
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
اوریجن آف اسپیشیز‘ کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آغازِ انواع کے موضوع پر ہے۔ مگر اصلًا اُس کا موضوع انواعِ حیات کی تعبیر ہے۔ اس لحاظ سے غالباً اس کا زیادہ صحیح نام تعبیرِ انواع (Interpretation of Species) ہونا چاہیے۔ ڈارون کی کتاب کے چھپنے کے بعد مسیحی چرچ کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ڈارون ازم خدا کے وجود کی نفی ہے، مگر یہ درست نہیں۔ ڈارون کی کتاب ’اور یجن آف اسپیشیز‘ میں ایک سے زیادہ بار خدا (God) کا نام آیا ہے۔ اُس نے اپنی یہ کتاب ان الفاظ کے ساتھ ختم کی ہے کہ ــــــ خالق نے ابتدا میں زندگی کی ایک یا کئی شکلیں پیدا کیں اور پھر اُس سے بہت سی انواعِ حیات وجود میں آگئیں۔ تخلیق کا یہ تصور کتنا عظیم ہے: There is grandeur in this view of life, with its several powers, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one: and that, whilst this planet has gone cycling on according to the fixed law of gravity, from so simple a beginning endless forms most beautiful and most wonderful have been, and are being evolved. (B-5/496) ڈارون اپنی آخری عمر میں ناقابلِ تشخیص امراض کا شکار ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں دی ہوئی متضاد تعبیرات (contradictory explanations) سے سخت غیر مطمئن تھا۔ اُس پر دوبارہ دل کا دورہ پڑا اور اِسی میں اُس کا انتقال ہو گیا۔ ارتقایا مغالطہ ریڑھ کی ہڈی انسان کے جسم کا ایک کم زور حصہ ہے۔ ریڑھ کے نیچے کا حصہ بہت جلد متاثر ہو جاتا ہے اور وہ تکلیف شروع ہو جاتی ہے جس کو پیٹھ کا درد (backache) کہا جاتا ہے۔ نظریۂ ارتقا کے حامی اِس کو ارتقائی عمل سے جوڑتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسان ابتداً چوپائے کی شکل میں تھا، جیسا کہ گھوڑا ہوتا ہے۔ پھر اُس نے پیچھے کے پاؤں پر کھڑا ہونے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader