Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

مفروضہ ارتقائی طریقے کے مطابق ، وجود میں آئیں، تب بھی ان کو ابتدائی طور پر وجود میں لانے والا ایک خدا (God) تھا۔ لیکن یہ توجیہ درست نہیں۔ مذہبی نقطہ نظر کے مطابق ، خدا کی حیثیت صرف "سبب اول" کی نہیں ہے، بلکہ خدا مسلسل طور پر ہماری زندگی میں شامل ہے۔ مذہبی عقیدے کے مطابق ، خدا مسلسل طور پر کائنات کو کنٹرول کر رہا ہے۔ خدا اور انسان کے درمیان تعلق ایک مسلسل تعلق ہے جو بلا انقطاع ہر لمحہ جاری رہتا ہے، پھر یہ کہ خدا محاسب اور منجا زی ہے۔ قیامت کے دن خدا اما لک یوم الدین کی حیثیت سے تمام انسانوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ خدا کی یہ تمام حیثیتیں ، نظریہ ارتقا میں حذف ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ مذہبی اعتبار سے کبھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا اور بندے کے درمیان جو تعلق مطلوب ہے، وہ ایک زندہ تعلق ہے۔ وہ ذکر اور دعاء اور عبادت اور تفکر اور تدبر اور توسم کے ذریعے ہر وقت اور ہر لمحہ قائم رہتا ہے۔ انسان ہر لمحہ خدا سے مانگتا ہے، اور ہر لمحہ وہ خدا کی طرف سے پاتا ہے۔ انسان جس طرح وجود میں آنے کے لیے خدا کا محتاج ہے، اُسی طرح وہ اپنی بقا کے لیے بھی مکمل طور پر خدا کا محتاج ہے۔ خدا اگر ایک لمحے کے لیے انسان کو نظر انداز کر دے تو انسان تباہ ہو کر رہ جائے۔ مذہبی عقیدے کے مطابق ، خدا نہ صرف خالق (creator) ہے، بلکہ وہ رازق اور قیوم (sustainer) بھی ہے۔ ایسی حالت میں نظریہ ارتقا عملاً خدا کی نفی ہے، نہ کہ خدا کی تصدیق ۔ ڈارون اور ڈارون ازم چارلس رابرٹ ڈارون (وفات 1882) نظریہ ارتقا کی نسبت سے بہت مشہور ہے۔ اس سلسلے میں اُس نے دو کتابیں لکھیں۔ ان دونوں انگریزی کتابوں کے نام یہ ہیں: On the Origin of Species The Descent of Man

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page