ایک رپورٹ
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
نظریہ ارتقا کے مطابق، انسان کوئی اسپیشل مخلوق نہیں، وہ حیوانات کی اگلی ترقی یافتہ قسم ہے۔ مگر یہاں یہ سوال تھا کہ انسان تمام حیوانات بشمول چمپانزی سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ اختلاف یا فرق کہاں سے آیا۔ اب ارتقا پسند حضرات یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے انسان کے اندر ایک نیا جین (gene) دریافت کر لیا ہے۔ اس مختلف جین کی بنا پر ایسا ہے کہ انسان کے اندر ایسا دماغ ہے جو کسی حیوان کے اندر نہیں۔ انسان کے اندر نطق (speech) کی صلاحیت ہے، اور انسان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ اوزار (tools) بنائے اور ان کو استعمال کرے۔ مگر انسان کے اندر پائی جانے والی امتیازی صلاحیت (distinctive qualities) کی توجیح صرف یہ کہہ کر نہیں ہو سکتی کہ انسان کے اندر حیوان سے مختلف ایک امتیازی جین پایا جاتا ہے، کیوں کہ دوبارہ یہ سوال ہے کہ یہ امتیازی جین کہاں سے آیا۔ محض ارتقائی پر اسس یا اتفاق (accident) کا لفظ اس انتہائی پیچیدہ واقعے کی توجیح نہیں کر سکتا۔ با مھج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader