Urdu book · اظہارِ دین

خدا کی طرف

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

احتمال سے یقین تک پہنچنے کا یہ معاملہ کسی خوش فہمی (wishful thinking) پر مبنی نہیں، وہ تمام تر علم کے اوپر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ احتمال کے درجے تک پہنچتا ہے تو وہ اُس کے لیے ایک ایسا فطری واقعہ ہوتا ہے جو اُس انسان کے ساتھ لازماً پیش آتا ہے جو حقیقی معنوں میں احتمال کے مقام تک پہنچ گیا ہو۔ یہاں یہ سوال ہے کہ وجدان کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کو کیوں کر مستند علم سمجھا جائے ۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جس آدمی کے اوپر وجدان کا یہ دروازہ کھل جائے، وہ اپنی داخلی بصیرت کے تحت ایسی باتوں کو جاننے لگتا ہے جس کا علم اُس کو پہلے حاصل نہ تھا۔ بعد کو خارجی حقائق بالواسطہ طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُس کو اپنے وجدان کے ذریعے جو علم حاصل ہوا تھا، وہ ایک حقیقی علم تھا، وہ کوئی فرضی وہم نہ تھا۔ راقم الحروف کو ذاتی طور پر بار بار اس کا تجربہ ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی طریقہ (sientific method) کو مستند طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی چیز کو دریافت (discover) کرنے کے لیے سائنس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ـ پہلے مفروضہ، اس کے بعد مشاہدہ، اور پھر تصدیق: Hypothesis, Observation, Verification اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ایک سوچنے والے دماغ میں ایک تصوراتی مفروضہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ متعلق شواہد کی تحقیق کرتا ہے۔ اگر یہ شواہد اس کے مفروضہ کی تصدیق کریں تو اس کے بعد اس کا مفروضہ ایک مسلمہ حقیقت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ وجدان کے ذریعہ دریافت ہونے والی حقیقت کا ہے۔ یہاں بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے ایک سچے متلاشی (true seeker) کے دماغ میں ایک تصور آتا ہے۔ اس کے بعد وہ متعلقہ حوالوں (relevant reference) کی روشنی میں اس کی مزید تحقیق کرتا ہے، یہاں تک کہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کا مفروضہ درست تھا۔ راقم الحروف کو اپنی تلاش کے دوران بار بار ایسے تجربات پیش آئے ہیں۔ اس کی ایک مثال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page