خدا کی طرف
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہے کہ صوفیا کے حلقے میں ایک قول کا حدیثِ قدسی کی حیثیت سے بہت چرچا ہے۔ وہ قول یہ ہے: كُنْتُ كَنْزاً مَخْفِيّاً، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ خَلْقاً، فَبِبي عَرَّفُونِي (كشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 132)۔ یعنی، میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق (انسان) کو پیدا کیا، پھر انسان نے مجھ کو پہچانا۔ میرا بے آمیز وجدان کہتا تھا کہ یہ قول بالکل درست ہے۔ یہ معرفت کے معاملے کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند موجود نہیں۔ اس لیے علماِ عام طور پر اس کو مستند نہیں مانتے۔ تا ہم میں اس کی تحقیق کرتا رہا۔ چنانچہ میں اس دریافت تک پہنچا کہ خود قرآن میں اس تصور کی اصل موجود ہے۔ قرآن کی سورۃ الذاریات میں یہ آیت آئی ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی، اور میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا فرمایا کہ وہ میری عبادت کریں۔ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے اس آیت میں ”عبادت“ سے مراد معرفت لیا ہے۔ انھوں نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْرِفُونِ۔ اس مثال میں، میرے وجدان نے مجھ کو ایک علم تک پہنچایا، وہ یہ کہ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ اس کے بعد میں نے مزید غور کیا تو میں اس دریافت تک پہنچا کہ مذکورہ قول دراصل ایک تفسیری قول ہے جس کو قائل نے آیتِ قرآنی کی رعایت سے، حدیثِ قدسی کی زبان میں بیان کر دیا۔ اس قول کے الفاظ اگر بدل دیے جائیں اور اس کو ایک تفسیری قول کی شکل دے دی جائے تو وہ اس طرح ہوگا: كَانَ اللَّهُ كَنْزاً مَخْفِيّاً، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يُعْرَفَ، فَخَلَقَ الخَلْقَ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے متلاشی کا وجدان، عقلی بنیاد سے بھی زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ عقلی بنیاد آدمی کو صرف فنی سطح کے ظاہری علم تک پہنچاتی ہے، لیکن ایک سچے متلاشی کا وجدان مزید اضافے کے ساتھ حقیقت شناسی (realization of truth) کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جب کہ ایک ترقی یافتہ ذہن ادراکِ حقیقت کی ایک ایسی سطح پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں سے وہ حقیقت کو براہِ راست دیکھ سکے، وہ اس درجے تک پہنچ جائے کہ وہ حقیقت کو کسی دلیل کے بغیر پہچاننے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader