اظہارِ دین
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تاریخی جائزہ قرآن میں ایک تاریخی واقعے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ (22: 8) ۔ یعنی ، اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے جھگڑتے ہیں۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے ، وسیع تر انطبا ق کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی کے بارے میں بغیر ہدایت، خدائی اسکیم سے لڑتے ہیں: Some people defy the divine scheme without having a guidance. اس آیت کی روشنی میں غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ پوری انسانی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ ساری تاریخ میں مسلسل یہ ہوتا رہا ہے کہ بڑے بڑے دماغ کسی رہنمائی کے بغیر محض اپنی ذاتی اُپج سے زندگی اور کائنات کی تشریح کرتے رہے ۔ اس طرح انھوں نے انسانیت کے بڑے حصے کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیا ۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ فلسفے کی مثال تمام علوم میں فلسفہ شاید سب سے قدیم علم ہے۔ بڑی تعداد میں اعلیٰ دماغ، فلسفیانہ غور میں مشغول رہے ہیں لیکن فلسفہ انسانی علم میں کوئی مثبت اضافہ نہ کر سکا۔ مثال کے طور پر تقریبا تمام فلسفیوں نے یہ کیا کہ انھوں نے کائنات کے مختلف مظاہر کو وحدت کی اصطلاح میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے خالق اور تخلیق دونوں کو ایک قرار دے دیا ۔ ان کے نزدیک ایک ہی حقیقت تھی جو مختلف اشیا کی صورت میں اپنا ظہور کر رہی تھی۔ اسی فلسفیانہ تفکیر کے نتیجے میں تخلیق کے بارے میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو وحدت وجود (monism) کہا جاتا ہے، سنسکرت میں اسی کو اَدُوَّیت واد کہتے ہیں ۔ یہ نظریہ انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ مطالعہ بتا تا ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک بڑے کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader