Urdu book · اظہارِ دین

سائنس کی مثال

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کی مثال فلسفہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا علم وہ ہے جس کو سائنس یا علومِ قطعیہ (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ سائنس اُس علم کا نام ہے جس میں مظاہرِ فطرت کی تحقیق کر کے فطرت کے اصول اخذ کیے جائیں اور ان کی روشنی میں مادی دنیا کی تعمیر کی جائے۔ یہ علم ابتدائی صورت میں بہت پہلے سے موجود تھا، لیکن وہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں اپنے عروج پر پہنچا ہے۔ سائنس نے انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ مادی قوانین کا اتباع کر کے اپنے لیے ایک پُرکشش دنیا بنائی جا سکے۔ انسان ہمیشہ سے راحت اور آسائش کی زندگی کا طالب رہا ہے۔ سائنس نے پہلی بار ایسا کیا کہ بظاہر اس نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ انسان اپنی خواہشوں کو واقعے کی صورت دے سکے۔ لیکن جہاں تک فکری پہلو کا تعلق ہے، سائنس نے انسان کو ایک بہت بڑی بے راہ روی میں ڈال دیا، ایک ایسی بے راہ روی جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے کامل تباہی کے ہم معنی ہے۔ وہ فکری گمراہی یہ ہے کہ دنیا میں مختلف قسم کے جو سامانِ حیات موجود ہیں، ان کو سائنس نے صرف یہ حیثیت دی کہ وہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کے طور پر ہیں۔ حالانکہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، ان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ٹیسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) کے طور پر ہیں۔ سامانِ حیات کے سائنسی تصور کی روشنی میں انسان اور اس سامانِ حیات کے درمیان جو تعلق بنتا ہے، وہ وہی ہے جو حیوانات کا ان چیزوں کے ساتھ بنا ہوا ہے۔ حیوان ان چیزوں کو صرف ذریعہ انتفاع کے طور پر دیکھتا ہے، جس سے کوئی ذمے داری وابستہ نہ ہو۔ سائنسی خاکے میں یہی حال انسان کا بھی ہو جاتا ہے۔ سائنسی تصور کے مطابق، انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیوی ساز و سامان سے انتفاع اس کے لیے صرف رائٹ (right) کا ایک مسئلہ ہے، وہ ڈیوٹی (duty) کا مسئلہ نہیں۔ یہ تصور انسان کو اُس سطح پر لے جاتا ہے، جس کو حیوانی سطح کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page