Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے برعکس ، سامانہ حیات کے بارے میں پیغمبرانہ تصور یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں امتحانی پرچہ (test papers) کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ان کے ساتھ براہِ راست طور پر ذمے داری کا تصور جڑا ہوا ہے ۔ اس طرح پیغمبرانہ تصور آدمی کو مکمل طور پر ڈیوٹی کانشس (duty concious) بنا دیتا ہے ۔ سائنسی تصور کے مطابق ، یہ حال ہوتا ہے کہ ہر آدمی زندگی کو اس نظر سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ اس لیے دنیا میں ہے کہ وہ بقَدَرِ امکان آرام اور آسائش کی چیزیں حاصل کرے اور پھر مر جائے ۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے ، وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اس کے اندر اپنا امتحان دے ، اور پھر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس کے مطابق ، انعام یا سزا کی صورت میں اس کا نتیجہ پائے۔ پیغمبرانہ تصور کے مطابق ، خالق نے ہماری زندگی کو دو دَوروں میں تقسیم کیا ہے ۔ موت سے پہلے ، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے ، اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ ۔ سائنسی تصور کے مطابق ، زندگی کی معنویت کو سمجھنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی اس عارضی مرحلہ حیات کو کتنا زیادہ پُر آسائش بنا سکا ، جب کہ پیغمبرانہ تصور کے مطابق ، سارا معاملہ جنت سے تعلق رکھتا ہے ۔ پیغمبرانہ تصور کے مطابق ، انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں ملی ہوئی ہر چیز کو امتحان کا ایک پرچہ سمجھے ۔ وہ چیزوں کے درمیان اس احساس کے ساتھ رہے کہ اُسے دنیا میں اُس روش کو اختیار کرنا ہے جو موت کے بعد کے طویل تر مرحلہ حیات میں اس کو کامیاب بنا سکے ۔ انسان کی دریافت ایک فلسفی نے کہا ہے کہ — انسان کی تاریخ اندھیرے میں بھٹکنے کی تاریخ ہے ۔ یہ تبصرہ بالکل درست ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پوری تاریخ میں بے خبری کے اندھیروں میں بھٹکتا رہا ہے ۔ انسان کی اس بے خبری کو تین عنوان کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page