Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈی کنڈیشنگ کے بغیر تفکیر کی عمل حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385) ۔ یعنی، ہر پیدا ہونے والا اپنی اصل فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا مسیحی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے وہ اب خود سائنسی ریسرچ کے تحت ثابت ہو چکی ہے۔ اب خالص علمی طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ کوئی عورت یا مرد جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اُس ماحول کے مطابق، ان کے ذہن کی کنڈیشنگ ہو جاتی ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کنڈیشنگ کا یہ عمل غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ پر اسرار ہر آدمی کے ذہن میں جاری رہتا ہے اور کوئی آدمی بطور خود یہ جان نہیں پاتا کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر کنڈیشنگ کا عمل جاری ہے۔ کنڈیشنگ کا یہ معاملہ پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آیا۔ امریکہ میں نفسیات کے پروفیسر واٹسن (J. B. Watson) نے اس موضوع پر لمبی تحقیق کے بعد 1925 میں اپنی مشہور کتاب بہیو یرازم (Behaviourism) چھاپی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہر آدمی لازمی طور پر کنڈیشنگ کا معمول بنتا ہے، کوئی بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ واٹسن کا یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عرصے تک وہ یونیورسٹیوں میں نفسیات کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔ لیکن واٹسن کے نظریے میں ایک بھیانک کمی تھی۔ اس نے یہ فرض کر لیا کہ یہ کنڈیشنگ جو ہوتی ہے، وہی اصل صورت حال ہے۔ اس نظریے کے مطابق، انسانی شخصیت کی تشکیل تعمیر نیچر (nature) سے نہیں ہوتی بلکہ نرچر (nurture) سے ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو آدمی جیسا بن گیا، وہی اس کی ابدی شخصیت ہے۔ اس کو دوبارہ اس کی ابتدائی فطرت کی طرف نہیں لوٹایا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page