Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

ثابت کرے کہ امتحان ہال کے باہر کی دنیا میں وہ جگہ پانے کا مستحق ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا انسان کے لیے خدائی ٹسٹ دینے کی جگہ ہے۔ موت سے پہلے کی اس دنیا میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ٹسٹ میں اپنے آپ کو کامیاب ثابت کرے، تاکہ موت کے بعد کی دنیا میں وہ خدا کے ابدی انعامات کا مستحق قرار پائے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کی گائیڈ بک کے ذریعے دنیا کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشے کو جانے، اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ جو لوگ ایسا کریں وہی کامیاب انسان ٹھہریں گے اور جو لوگ ایسا نہ کریں وہ ناکام ہو کر رہ جائیں گے۔ آئیڈیل زندگی کی تعمیر مشہور یونانی فلسفی افلاطون (Plato) تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے یونان میں پیدا ہوا۔ اس کا نشانہ یہ تھا کہ یونان میں ایک اسٹیٹ بنائی جائے جو ہر اعتبار سے آئیڈیل ہو۔ اس نے اپنی کتاب آئیڈیل اسٹیٹ (Ideal State) میں اس کا نقشہ پیش کیا۔ اس کے نزدیک آئیڈیل اسٹیٹ بنانا پوری طرح ممکن تھا۔ افلاطون یونان کے شاہی خاندان کا معلم تھا۔ اس طرح اس کو موقع مل گیا کہ وہ شہزادوں کی تعلیم و تربیت کر کے ایسا مطلوب سیاسی کردار تیار کرے جو اس کی اسٹیٹ میں وہ رول ادا کر سکے جس کو اس نے فلاسفر کنگ (Philosopher King) کا نام دیا تھا۔ مگر افلاطون کی مفروضہ آئیڈیل اسٹیٹ کبھی قائم نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ نہ تھا کہ اس کے شاگرد سکندر اعظم نے بعد کے مرحلے میں اس کی پیروی نہ کی، بلکہ اس کا سبب فطرت کے تخلیقی نقشے سے بے خبری تھی۔ خدا نے یہ دنیا اس لیے نہیں بنائی کہ یہاں آئیڈیل اسٹیٹ بنائی جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، آئیڈیل اسٹیٹ اس دنیا میں بنانا ممکن ہی نہیں۔ افلاطون نے ایک ناقابل عمل منصوبے کو عمل میں لانا چاہا، اس لیے وہ ناکام ہو کر رہ گیا۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اگر وہ کسی عملی منصوبے کو زیر عمل لانے کی کوشش کرتا تو ضرور وہ کامیاب ہوسکتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page