Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنی انقلاب کے بغیر روحانیت روحانیت (spirituality) ہمیشہ سے انسان کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے نام ہر حلقے میں الگ الگ لیے جاتے رہے۔ مثلاً مسٹسرزم (Mysticism) اور مراقبہ (Meditation) اور تصوّف (Sufism)، وغیرہ۔ روحانیت کے محاذ پر ہزاروں سال سے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں، مگر ابھی تک ان سرگرمیوں کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ تمام کوششوں اور ریاضتوں کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ صرف بے شعور وجد (ecstasy) ہے، نہ کہ روحانی ارتقا جو کہ ان سرگرمیوں کا اصل مطلوب تھا۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ یہ ماننے لگے کہ انسان کا ذہن سوچ کا مرکز ہے، اور انسان کا دل جذبات و عواطف کا مرکز۔ کیوں کہ روحانیت کو عواطف کی نوعیت کی چیز سمجھ لیا گیا، اس لیے انسان ہمیشہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) پر عقیدہ رکھتا رہا۔ اس مفروضے کی بنیاد پر باقاعدہ فلسفہ وضع کیا گیا۔ یہ مان لیا گیا کہ انسان کا دل ہر قسم کے روحانی خزانوں کا سرچشمہ ہے۔ اور دل میں چھپے ہوئے احساسات کو جگا کر روحانی فیض حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ اب یہ قطعیّت کے ساتھ معلوم ہو چکا ہے کہ فکر اور جذبات دونوں کا واحد مرکز صرف انسان کا ذہن (mind) ہے۔ جہاں تک دل کا تعلق ہے، وہ صرف گردش خون (circualtion of blood) کا ذریعہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرسالہ، نومبر 2004، صفحہ 23؛ جون 2005، صفحہ 6؛ فروری 2006، صفحہ 28؛ اگست 2006، صفحہ 33) یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال کی روحانی ریاضت کے نتیجے میں انسان کو جو چیز ملی، وہ صرف وجد (ecstasy) تھا، نہ کہ روحانی بنیاد پر ذہنی ارتقا۔ اس قسم کی روحانیت دراصل، روحانیت کی ایک کم تر صورت (reduced form) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی ارتقا۔ جیسا کہ معلوم ہے، وجد ایک مبہم کیفیت کا نام ہے، جب کہ انسان کی سب سے بڑی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page