بغیر روحانیت
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایسا ذہن رکھتا ہے جس کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی تاریخ کی تمام ترقیاں سوچ کی صلاحیت کو عمل میں لانے سے حاصل ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں ، روحانیت اگر کوئی چیز ہے تو اس کو بھی ذہن کی سطح پر حاصل ہونا چاہیے۔ تمام انسانی ترقیوں کا سر چشمہ انسان کے ذہن میں تفکیری عمل ہے ، اسی طرح روحانی ترقی کا ذریعہ بھی تفکیری عمل کو ہونا چاہیے ۔ روحانیت در اصل معرفتِ حقیقت کا اعلیٰ درجہ ہے ، وہ مبہم بے خودی جیسے کوئی چیز نہیں۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہی ہے جو کسی آدمی کو ذہن کی سطح پر حاصل ہو ، نہ کہ قلب کی سطح پر ۔ اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ پوری تاریخ میں انسان حقیقی روحانیت کے حصول سے محروم رہا ۔ اس نے جس چیز کوروحانیت سمجھا ، وہ روحانیت نہیں تھی ۔ اور جو اصل روحانیت تھی اس سے بے خبری کی بنا پر وہ اس کو حاصل کرنے کی طرف اپنا سفر ہی شروع نہ کر سکا۔ تاریخ انسانی کا یہ شاید سب سے بڑا المیہ ہے ، اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں ۔ ھی، اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader