انسانی تاریخ کے چار دور
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
پر اس کی سند کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ لیکن سترھویں صدی عیسوی کے مشہور فقیہ علی بن محمد نور الدین ملا علی قاری ( وفات 1606ء) نے کہا کہ: لکِنَّ مَعْنَاهُ صَحِيحٌ، مُسْتَفَادٌ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَىٰ: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ، أَي لِيَعْرِفُونی (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 1011)۔ یعنی، اس کا مفہوم صحیح ہے، اور وہ اس آیت قرآنی سے ماخوذ ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: كُنْتُ كَنْزاً مَخْفِيّاً فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ خَلْقاً فَبِى عَرَّفُونِي (کشف الخفاء، حدیث نمبر 2016)۔ یعنی، میں ایک مخفی خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ مجھ کو جانا جائے، پھر میں نے انسان کو پیدا کیا، پھر انہوں نے مجھے جانا۔ اس سے اور متعدد دوسرے حوالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت (realization) حاصل کرے۔ یہی معرفت تمام انسانی کمالات کا سرچشمہ ہے۔ انسان کو جب حقیقی معنوں میں خدا کی معرفت حاصل ہوجائے تو اس سے اُس کے اندر تمام خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور یہی اس کے لیے ہر قسم کے شر سے دور رہنے کا محرک بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معرفت ہی دین خداوندی کی اصل روح ہے۔ خدا نے اپنے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق ، اس دنیا میں معرفت کے حصول کا اعلیٰ ترین انتظام کیا ہے۔ جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ ہو، وہ کبھی معرفت کے حصول سے محروم نہیں رہ سکتا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق ، اس انتظام کے چار درجے ہیں۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسانی تاریخ کے چار دور ہیں (phases) ہیں۔ ابتدائی تین دور سے گزرتے ہوئے اب انسانی تاریخ اپنے چوتھے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اس کے بعد کوئی پانچواں دور نہیں۔ اس کے بعد قیامت ہے اور ہر انسان کا اپنے ابدی انجام کے دور میں پہنچ جانا۔ تاریخ کے یہ چار دور حسب ذیل ہیں: 1. Realization at the level of unconsciousness 2. Realization at the level of consciousness

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader