Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

3. Realization through partial uncovering of the truth 4. Realization through total uncovering of the truth. لاشعور کی سطح پر معرفت قرآن میں ابتدائی انسان کے بارے میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو 'عہدِ الست' کہا جاتا ہے، یعنی پہلا خدائی عہد (first divine covenant)۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر سات میں آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: "اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر۔ کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم اققرار کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی" (7:172)۔ اس آیت کے تحت، عبداللہ بن عباس کی ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں: رَدَّهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ حَتَّى أَخْرَجَهُمْ قَرْناً بَعْدَ قَرْنٍ (الرد علی الجهمية لابن منده، صفحہ نمبر 31) یعنی خدا نے ذریت بنی آدم کو دوبارہ اُن کے آباء کے صُلْب میں لوٹا دیا اور پھر مختلف ادوار میں وہ ان کو پیدا کرتا رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نے آغازِ حیات میں تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا کیا، پھر اُن سے مذکورہ عہد لیا۔ یہ عہد کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے، یہ عہدِ معرفت کا عہد تھا۔ ابن جریر طبری نے اس سلسلے میں اپنی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ... ثُمَّ أَخَذَ عُهُودَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ وَالْمَعْرِفَةِ لَهُ (تفسیر الطبری، جلد 10، صفحہ نمبر 556)۔ یعنی، ذریت آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اُن سے ایمان اور معرفت کا عہد لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی معرفت کو ہر انسان کے لاشعور میں داخل کر دیا۔ اب ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ لاشعور کی سطح پر معرفتِ خداوندی کو لے کر پیدا ہوا ہے۔ اس معاملے میں کسی عورت، یا کسی مرد کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page