مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں مذہب کو ٹریڈیشن (tradition) کہا جاتا ہے۔ مثلاً مذہب یہودیت کو یہودی ٹریڈیشن، مذہب عیسائیت کو عیسائی ٹریڈیشن اور مذہب اسلام کو اسلامی ٹریڈیشن، وغیرہ۔ ایسا اس لیے ہوا کہ مذہب کو ایک جامد روایت مان لیا گیا، ایک ایسی روایت جنس در نسل ایک ہی حالت پر چلی جارہی ہے، حالانکہ سائنس میں ایسا نہیں ہوا۔ سائنس کی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ برٹش سائنس کو برٹش ٹریڈیشن، جرمن سائنس کو جرمن ٹریڈیشن اور امریکن سائنس کو امریکن ٹریڈیشن کہا جانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح معروف سائنس ایک سائنس ہے، اسی طرح مذہب بھی ایک سائنس ہے۔ مذہب کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مذہب میں بھی آزادانہ انکوائری اور کھلا ڈائیلاگ اُسی طرح جاری کیا جائے جس طرح وہ سائنس میں عملاً جاری ہے۔ اس طرح کی انکوائری یا ڈائیلاگ جاری نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ مذہب میں قدیم زمانے میں کمتر واقفیت کی بنا پر جو باتیں مان لی گئیں، وہی بدستور آج تک جاری ہیں۔ ضرورت تھی کہ بعد کی تحقیقات کو لیتے ہوئے قدیم بے اصل نظریات کو ترک کر دیا جائے اور ان کی جگہ اُن باتوں کو مان لیا جائے جو بعد کی تحقیقات سے انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ مذاہب کے حلقے میں باشعور لوگوں کے اندر خود بھی اس کا احساس پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان بار بار اس قسم کی تحریکیں اُٹھتی رہی ہیں، اگر چہ موافق فضا نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریکیں زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ مثلاً ہندوانزم میں آریہ سماج کی تحریک، جومورتی پوجا کے خلاف اُٹھی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مورتی پوجا ویدوں میں نہیں ہے، یہ بعد کا اضافہ ہے۔ اسی طرح بھکتی مومنٹ، جو ہندوانزم میں بڑھی ہوئی ریچول ازم (Ritualism) کے خلاف اُٹھی۔ اْس نے رسمی اعمال کے بجائے ڈووشن (devotion) پر زور دیا۔ اسی طرح بدھ ازم میں، نیو بدھ ازم (neobuddhism) کی تحریک۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے رسم و رواج سے پاک کر کے بدھ ازم کو ابتدائی دور کے بدھ ازم کی طرف واپس لے جانا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader