Urdu book · اظہارِ دین

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی معاملہ مسیحیت کا ہے۔ 325ء میں ہونے والی نیقیا کونسل (Nicaea Council) کے بعد مسیحیت میں کافی تبدیلی آئی۔ اب مسیحی تعلیمات کے بجائے چرچ کی روایات، مسیحیت کا مآخذ بن گئیں۔ اس کے بعد مسیحی حلقے میں سولھویں صدی میں رفارمیشن (reformation) کی تحریک اٹھی جو گو یا چرچ سے بائبل کی طرف واپسی کی تحریک تھی، مگر وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس طرح، ڈی ہیلی نائزیشن (dehellenization) کی تحریک، جو انیسویں صدی کے آخر میں اٹھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی اور رومی اثرات سے مسیحیت کو پاک کیا جائے، اگرچہ یہ تحریک زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس معاملے میں اسلام کا معاملہ مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب کے برعکس، اسلام میں اصل متن کامل طور پر محفوظ ہے۔ یہاں جو بگڑ آتا ہے وہ مسلم قوم میں آتا ہے نہ کہ خود اسلام میں۔ اس لیے اسلام میں رفارمیشن جیسی تحریک کی ضرورت نہیں۔ البتہ اسلام میں احیا (revivalism) کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ اس کے متبعین (مسلمانوں) کے اضافوں سے پاک کر کے اسلام کو اس کی اصل صورت میں سامنے لایا جائے۔ مثلاً مانزم (monism) کے عقیدے کو لیجیے، جس کو ادویت واد، یا وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ یعنی حقیقت کو ایک سنگل وحدت کے روپ میں دیکھنا۔ پانچ ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے آئیڈ نٹی کرائسس کے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔ انھوں نے یہ فرض کیا کہ انسان ایک گلی حقیقت کا حصہ ہے۔ وہ صرف اس لیے اُس سے الگ ہوا ہے کہ ایک دن دوبارہ وہ اس سے مل جائے۔ انسان ایک الگ وجود کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں پارہا تھا، لیکن جب اس نے یہ مان لیا کہ وہ ایک عظیم تر حقیقت کُلّی کا ذاتی جز ہے، تو اس نے گویا اپنی شناخت پالی۔ کائنات کے اندر اس کو اپنی پہچان معلوم ہوگئی۔ یہ نظریہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلا۔ مگر اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مانزم کا نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تخیل تھا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ بیسویں صدی میں فلکیاتی سائنس میں جو تحقیق ہوئی ہے، اس نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ بگ بینک (Big Bang) کا نظریہ جو سائنسی حلقے میں اب ایک مسلّمہ بن چکا ہے، وہ ثابت کرتا ہے کہ خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہو سکتے۔ خالق بلاشبہ تخلیق سے الگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page