Urdu book · اظہارِ دین

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، اس لیے وہ تخلیق کا واقعہ ظہور میں لاسکتا ہے۔ اگر خالق خود تخلیق کا حصہ ہو تو تخلیق کا واقعہ کبھی وجود ہی میں نہ آئے اور تخلیق ہمیشہ کے لیے غیر موجود بنی رہے۔ بگ بینگ کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے پوری کائنات ایک واحد سپر ایٹم کی صورت میں تھی۔ پھر خارجی مداخلت کے ذریعے اس کے اندر انفجار (explosion) ہوا۔ اس انفجار کے بعد سپرایٹم کے ذرات خلا میں پھیل گئے اور موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ سپر ایٹم کے اندر یہ انفجار، داخلی سبب کے ذریعے نہیں ہوا، بلکہ وہ واضح طور پر ایک خارجی مداخلت کار (intervener) کے ذریعے ہوا۔ اور جب یہ مان لیا جائے کہ زیر مداخلت (enterved) سپرایٹم الگ تھا اور مداخلت کار (intervener) الگ، تو اپنے آپ ادویت واد یا مانزم کا نظریہ ختم ہو جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسان نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو اس نے فرض کر لیا کہ چاند ایک دیوتا ہے ۔ اس طرح چاند کو ایک آسمانی دیوتا مان لیا گیا اور اس کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو جب مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ چاند کوئی روشن وجود نہیں۔ وہ سورج کی روشنی پڑنے سے چمکتا ہے۔ بعد کو جب خلائی سفر میں ترقی ہوئی تو انسان چاند کی طرف پرواز کرنے کا منصوبہ بنانے لگا۔ یہاں تک کہ امریکی خلا باز نیل آرم سٹرانگ (Neil Armstrong) 21 جولائی 1969 کو چاند کی سطح پر اتر گیا۔ یہ پہلا انسان تھا جو چاند کی سطح پر اترا۔ اس براہِ راست مشاہدے کے بعد معلوم ہوا کہ چاند صرف ایک خشک چٹان ہے، وہ نہ تو روشن ہے اور نہ گول، اور نہ اس کے اندر کوئی امتیازی صفت ہے۔ اس دریافت نے چاند کے تقدس کا نظریہ علمی طور پر ختم کر دیا۔ ضرورت تھی کہ اس کے بعد چاند کو دیوتا سمجھنے کے عقیدے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، لیکن ابھی تک ایسا نہ ہوسکا۔ یہی معاملہ آواگون (cycle of life) کے نظریے کا ہے۔ یہ نظریہ اس تصور پر قائم ہے کہ آدمی اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، دوبارہ زمین پر پیدا ہوتا ہے اور پھر اپنے کرم کی سزا بھگت کر مر جاتا ہے، تاکہ اسی طرح دوبارہ پیدا ہوا اور اپنے کرم کا نتیجہ بھگتے۔ یہ سلسلہ 80 لاکھ سال سے بھی زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page