Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تحقیق کے بعد اب ضروری ہو گیا ہے کہ اس پورے معاملے پر نظرثانی کی جائے، اور پھر مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کے نظریے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور اس کے بجائے مبنی بر ذہن روحانیت (mind-based spirituality) کے نظریے کو اختیار کر لیا جائے۔ قدیم زمانے میں مذہب کو ایک مقدس چیز سمجھا جاتا تھا۔ اس بنا پر مذہب کا تنقیدی جائزہ ایک امر ممنوع بنا ہوا تھا، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے اثر سے یہ ہوا کہ جس طرح دوسرے تمام شعبوں کا تنقیدی جائزہ لیا جا رہا تھا، اسی طرح مذہب کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جانے لگا۔ اس شعبہ تحقیق کو اب تاریخی انتقاد (historical criticism) کہا جاتا ہے۔ اس تحقیق و تنقید کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب بعد کی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب غیر تاریخی بن چکے ہیں، ہر مذہب گویا کہ ایک میتھالوجی ہے۔ جس کے پیچھے کوئی تاریخی سند (historical credibility) موجودنہیں۔ مذاہب کے اس عموم میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ مذہب اسلام کا ہے۔ خالص علمی جائزے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کو پورے معنوں میں تاریخی مذہب کہا جا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں علم کا تقاضا ہے کہ دوسرے مذاہب کو قابل احترام اثاثہ سمجھتے ہوئے یہ مان لیا جائے کہ عملی طور پر صرف اسلام قابل اعتبار مذہب ہے، الہامی سچائی کو جاننے کے لیے اسلام ہی واحد مستند ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسیحی پوپ کا بیان مسیحی پوپ (Pope Benedict XVI) نے 12 ستمبر 2006 کو ویسٹ جرمنی کی یونیورسٹی ریجنس برگ (Regensburg) میں ایک لیکچر دیا۔ یہ لیکچر سات صفحات پر مشتمل تھا۔ سات صفحے کے اس لیکچر کا عنوان یہ تھا: Faith and Reason

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page