Urdu book · اظہارِ دین

مسیحی پوپ کا بیان

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

(material civilization) ہے، لیکن اپنی حقیقی نوعیت کے لحاظ سے یہ دراصل ربانی تہذیب (divine civilization) ہے۔ موجودہ تہذیب دراصل اُس واقعے کا ظہور ہے جس کو قرآن کی سورہ حم السجدہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خودان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ معرفت کا یہ سفر بہت پہلے جنات کی تخلیق سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے کائنات بنائی اور اس کے انتظام (management) کے لیے فرشتوں کو پیدا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُس مخلوق کو پیدا کیا جس کو جن کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، جن کی تخلیق آگ سے ہوئی (15:27) جن کو آگ سے پیدا کرنے کا مطلب غالباً یہ ہے کہ جن کی سرگرمیوں کا دائرہ سیاروں کی دنیا سے لے کر ستاروں کی دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں، بعد کو انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی (7:12)۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ انسان کی سرگرمیوں کا مرکز بنیادی طور پر سیاره زمین (planet earth) ہوگا۔ معرفتِ خداوندی کا حصول در اصل تخلیق میں چھپے ہوئے ربانی اسرار کی دریافت پر مبنی تھا۔ یہی دریافت وہ چیز ہے جو انسان کو خالق کائنات کا تعارف کراتی ہے ۔ اس سے بندہ اور خدا کے درمیان وہ اعلیٰ شعوری تعلق قائم ہوتا ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ دریافت کا یہی تاریخی عمل ہے جس کو ہم نے تہذیب (civilization) کا نام دیا ہے۔ اس تہذیب معرفت کو وجود میں لانے کا کام سب سے پہلے جن کے سپرد کیا گیا۔ مگر جیسا کی روایات میں آیا ہے، جن کے گروہوں نے آپس میں لڑائیاں کیں اور بہت زیادہ فساد برپا کیا۔ وہ تہذیبِ معرفت کا عمل شروع کرنے میں ناکام رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معزول کر دیا۔ اور ان کی جگہ انسان کو زمین پر بسایا گیا، تا کہ وہ تہذیبِ معرفت کو وجود میں لانے کا مطلوب عمل شروع کر سکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page