مسیحی پوپ کا بیان
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
جس خدا کے کمالات اتنے زیادہ ہوں، اس کی دریافت ایک وقتی واقفیت نہیں ہوسکتی، یہ بلا شبہ دریافت کا ایک لامناہی سفر ہے جس کا آغاز تو متعین ہوسکتا ہے، لیکن اس کا اختتام متعین نہیں۔ خدا کی معرفت کا یہ مطلب نہیں کہ مراقبہ (meditation) کرکے تصور کی دنیا میں ذات الہیٰ کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح وجد (ecstasy) بھی معرفت کے ہم معنی نہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ شعوری حالت ہے جو تخلیقاتِ الٰہیہ میں غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق، معرفت کی تعریف (definition) یہ ہے کہ ایک بندہ، رب العالمین کو اُن عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے کہ وہی اِس کے لیے اس کی ساری محبتوں کا مرکز بن جائے (2:165)، اور اس کی خشیت کے جذبات تمام تر اسی کے ساتھ وابستہ ہو جائیں (9:18)۔ محبت اور خشیت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بندہ جب تدبر اور تفکر کے ذریعے خالقِ کائنات کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ حد تک اپنے رب کا اعتراف پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ جب وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ دینے والا خدا ہے، اُس کے سوا کوئی اور دینے والا نہیں تو اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر میں خدا کی رحمتوں سے محروم ہو جاؤں تو زمین و آسمان میں میرا کوئی ٹھکانہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم (95:4) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کو وہ تمام دماغی صلاحیت عطا کر دی جس کے ذریعے وہ رب العالمین کی معرفت حاصل کر سکے۔ دوسری طرف، خارجی دنیا (nature) کے اندر معرفت کے تمام اجزا مخفی صورت میں رکھ دئۓ۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ معرفت کے ان چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کا تجربہ کر کے اپنے اندر ربانی شخصیت (divine personality) بنائے۔ معرفت کا یہ عمل ایک مسلسل دریافت کا عمل تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک پوری تہذیب (civilization) وجود میں آئے، جو معرفت کے چھپے ہوئے حقائق کو انسان کے لیے کھول دے۔ آج تہذیب کے نام سے ہم جس تاریخی واقعے کو جانتے ہیں، وہ اگرچہ مادی تہذیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader