ایک مطالعہ
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
ربانی معرفت: ایک مطالعہ ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: کُنتُ کَنزاً، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ خَلْقاً، فَعَرَّفْتُهُمْ بي، فَعَرَفُونِي (المقاصد الحسنہ للساخاوی، جلد 4، صفحہ 139)۔(میں ایک خزانہ تھا بغیر پہچانا ہوا، پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق کو پیدا کیا، پھر ان کو میں نے اپنی پہچان کرائی، تو انھوں نے مجھے پہچان لیا)۔ اس روایت کو تقی الدین احمد بن تیمیہ (وفات 728ھ) اور اُن کے ہم فکر علما نے ضعیف یا بے اصل بتایا ہے۔ لیکن کچھ دوسرے علما کا کہنا ہے کہ اس کو معنی کے اعتبار سے بے اصل نہیں کہا جاسکتا۔ علی بن محمد نور الدین الملا القاری (وفات 1014ھ) نے لکھا ہے: مَعْنَاهُ صَحِيحُ مُسْتَفَادٌ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)، أَي لِيُعَرِّفُونِي، كَمَا فَسَّرَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 232)۔ یعنی، اس روایت کا مفہوم درست ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے مستفاد ہے کہ ”میں نے پیدا کیا جن اور انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے“۔ یعنی وہ میری معرفت حاصل کریں، جیسا کہ عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی معرفت کسی انسان کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ بلاشبہ معرفت کا حصول ہی کسی انسان کا سب سے بڑا گول (goal) ہے۔ اس کے سوا، کوئی بھی دوسری چیز اتنی بڑی نہیں کہ وہ انسان کا گول بن سکے۔ دوسری مطلوب چیزیں اس معرفت کے تقاضے کے طور پر پیدا ہوتی ہیں۔ معرفت اصل ہے، اور بقیہ تمام چیزیں اسی اصل کا نتیجہ۔ معرفت کا یہ سفر انسان اول کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوا، اور وہ اب تک مسلسل جاری رہے گا۔ اس سفر کا آغاز ہے، لیکن اس کی کوئی انتہا نہیں۔ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ آدم کو پیغمبر کا درجہ دے کر، اللہ تعالیٰ نے آدم کو معرفت کا علم بھی دے دیا۔ اس کے بعد یہ علم نسل در نسل انسانیت کے درمیان جاری رہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader