اظہارِ دین
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کے تمام پیغمبر اسی کام میں انسان کی رہنمائی کے لیے آئے۔ پیغمبر گویا کہ معرفت الہی کے مستند گائیڈ (authentic guide) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک پیغمبر آتے رہے، مگر بہت کم افراد ایسے تھے جو پیغمبر سے ہدایت لیں یا پیغمبر کا ساتھ دیں۔ لوگ نہ دکھائی دینے والے خدا (unseen god) کی معرفت حاصل نہیں کر پاتے تھے، اس لیے وہ دکھائی دینے والے خدا (seen god) کو پوجتے رہے۔ انسان کی یہی کمزوری ہے جس نے قدیم زمانے میں فطرت پرستی (nature worship) کا کلچر پیدا کیا۔ یہ معرفت کا پہلا دور تھا جو حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک جاری رہا۔ اس قدیم دور کی طرف اشارہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا (14:36)۔ یعنی، اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ دوسرا مرحلہ معرفت کا دوسرا مرحلہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام (وفات 1985 ق م) سے شروع ہوتا ہے۔ وہ قدیم عراق کے شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق، ان کے ذریعے ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا۔ وہ منصوبہ تھا، ایسی نسل تیار کرنا جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے عرب کے صحرا میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا۔ یہاں صحرائی ماحول میں تقریبا ڈھائی ہزار سال تک توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (3:110)۔ یعنی، اب تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ ایک مستشرق پروفیسر ڈی ایس مارگولیٹھ (وفات 1940) نے اس اسماعیلی نسل کو ہیروزوں کی نسل (a nation of heroes) کہا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بنواسماعیل کے درمیان کام کر کے ان کو تیار کیا اور ان کے ذریعے ایک بڑی ٹیم بنائی۔ یہی وہ ٹیم ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اس ٹیم نے ساتویں صدی عیسوی میں اگلے دور معرفت کا آغاز کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader