تیسرا مرحلہ
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
تیسرا مرحلہ اصحاب رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ اس انقلاب کو ایک لفظ میں ، دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف عرب میں ، بلکہ عرب کے باہر دنیا کے دو بڑے ایمپائر ، ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کا خاتمہ کیا جو انسانی فکر کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے فطرت (nature) کو معبودیت کے مقام سے ہٹایا اور اکتشافِ فطرت کا دروازہ کھولا، جس کے نتیجے میں آخر کار جدید سائنسی دور ظہور میں آیا۔ اصحاب رسول کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے وحی الہی (قرآن) کو ایک محفوظ کلام کی حیثیت دے دی جو کہ اس سے پہلے کبھی کسی آسمانی کتاب کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ امتِ محمدی کا یہ ایک اہم کارنامہ ہے کہ اس نے ایک ہزار سال تک قرآن کو مستند ترین انداز میں محفوظ رکھا اور اس کو انیسویں صدی عیسوی تک پہنچا دیا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہو گیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کے نسخے کامل صحت کے ساتھ بڑی بڑی تعداد میں چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلا دیے جائیں۔ اب اشاعتِ قرآن کا یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہو چکا ہے کہ اُس میں اب نہ ضیاع کا اندیشہ ہے اور نہ کسی قسم کی تبدیلی کا اندیشہ۔ چوتھا مرحلہ تہذیبِ معرفت کا چوتھا مرحلہ دراصل تیسرے مرحلے میں پیش آنے والے انقلابی پراسس کی تکمیل (culmination) ہے۔ یہ تکمیل مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی، جن کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (21:96) کہا گیا ہے۔ سفرِ معرفت کے تیسرے مرحلے کے ہیرو اہل ایمان (believers) تھے۔ معرفت کے چوتھے مرحلے کو انجام دینے کا کام غیر اہل ایمان (non-believers) سے لیا گیا۔ اس واقعے کی طرف اشارہ ایک حدیثِ رسول میں موجود ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ اس حدیث رسول میں ”فاجر“ سے مراد غیر اہل ایمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader