Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں جو سائنسی دریا فتیں ہوئی ہیں، وہ حقیقتاً تخلیقِ خداوندی میں چھپے ہوئے قوانین کی دریا فتیں ہیں۔ ان دریا فتویں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اسلامی عقائد کا نظام جو پہلے وحی والہام پر مبنی سمجھا جاتا تھا، اب وہ انسان کے خوداپنے علمی مسلمہ کی بنیاد پر قائم ہو گیا ہے۔ چوتھے دور میں معرفت کا جو سفر طے ہوا، اس کے کئی پہلو تھے - اکتشافِ فطرت کے ذریعے آفاق وانفس کی نشانیوں کی دریافت، کمیونیکیشن کے ذرائع کا ظہور میں آنا، لوگوں میں تجسس کی اسپرٹ (spirit of enquiry) کا پیدا ہونا، عالمی انٹریشن کا وہ عمل جس کو گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے، مذہبی جبر (religious persecution) کا ختم ہونا اور ساری دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور شروع ہونا، تاریخی تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہو جانا کہ دوسری تمام الہامی کتابیں غیر محفوظ اور غیر مستند ہو چکی ہیں، محفوظ اور مستند کتاب کی حیثیت صرف قرآن کو حاصل ہے، ساری دنیا میں مذہبی مفاہمت (religious understanding) کی فضا کا قائم ہونا، قرآن اور اسلام کا بڑے پیمانے پر نیوز (news) میں آنا، پولٹیکل ایمپائر نہ ہوتے ہوئے، زیادہ بڑے پیمانے پر فکری ایمپائر (ideological empire) کا قیام ممکن ہو جانا، وغیرہ۔ پانچواں دور معرفت کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ پیدا شدہ انقلابی مواقع کو استعمال کر کے ایک طرف اعلیٰ درجۂ معرفت حاصل کیا جائے اور دوسری طرف اللہ کا پیغام ساری دنیا میں پہنچادیا جائے۔ یہ کام قیامت سے پہلے آخری دور انسانیت میں انجام پائے گا۔ اس دور کی پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) ۔ یعنی، زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اُس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page