Urdu book · اظہارِ دین

پانچواں دور

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری دور کا یہ واقعہ غالباً دو طریقے سے انجام پائے گا۔ ایک، یہ کہ کلمہ اسلام یا کلامِ الہی (word of God) کے اندر اقتصادی مفاد (commercial interest) پیدا کیا جائے گا۔ لوگ عمومی طور پر خدا کی بات کو پھیلانے لگیں گے، حتی کہ اشاعتِ اسلام کے اس عمل میں غیر مسلم بھی شریک ہو جائیں گے۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بالفعل پیش آرہا ہے۔ پرنٹ میڈیا یا اور الیکٹرانک میڈیا کے ظہور میں آنے کے بعد ساری دنیا میں مختلف صورتوں سے اسلام کے پیغام کی اشاعت ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے پبلشر اسلام کا لٹریچر چاپ کر پھیلا رہے ہیں، اور ٹی وی کے بڑے بڑے ادارے اسلام کے پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ سیمناروں اور کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا میں ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر اسلام کا چرچا ہو رہا ہے، وغیرہ۔ کلمہ اسلام کی اشاعت کا دوسرا ذریعہ امت محمدی ہے۔ امت محمدی کے افراد جدید معیار پر اشاعتِ اسلام کا کام انجام دیں گے۔ اس دور میں امت کا ایک منتخب گروہ خصوصی طور پر اشاعتِ اسلام کے اس عمل کی توفیق پائے گا۔ غالباً یہی وہ گروہ ہے جس کو حدیث میں 'اخوانِ رسول' (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249) کا لفظ دیا گیا ہے۔ پانچویں دور میں اعلی معرفت کے حصول کی طرف قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ یہ اشارہ قرآن کی اس آیت میں پایا جاتا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی آئندہ ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور نفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر بخوبی یہ امر واضح ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جدید سائنس کی اُن دریافتوں کی طرف اشارہ ہے جو خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سامنے آئی ہیں۔ یہ دریافتیں فطرت میں چھپے ہوئے قوانین الہی کی دریافت ہیں ۔ ان دریافتوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان کے خود اپنے علمی مسلمہ پر خدائی سچائی کو مدلل کیا جاسکے (scientific criterion)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page