اظہارِ دین
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
اس گفتگو میں میں نے ڈائریکٹ طور پر ان سے پوچھا کہ کیا آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ انھوں نے صاف طور پر کہا کہ نہیں، میں ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔ جب انھوں نے اس طرح کہہ دیا تو اُس کے بعد میرا سوال و جواب ختم ہو گیا۔ اُس کے بعد میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی باتیں سنتا رہا اور پھر چلا آیا۔ اِس سفر میں شانتی گری آشرم میں میں نے دو دن قیام کیا۔ کیا وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اِس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ ایسا کلام اتنا زیادہ غیر معمولی ہے کہ کوئی غیر پیغمبر اس کو اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتا۔ جس طرح خدا کے سوا کوئی اور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدائے رب العالمین ہوں، اسی طرح کوئی شخص یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر (Prophet of God) ہوں۔ پیغمبری کا دعویٰ صرف کوئی سچا پیغمبر ہی کر سکتا ہے۔ کوئی غیر پیغمبر شخص دوسرے دوسرے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ـــ میں خداوند عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔ پیغمبر ایک تاریخی استثنا پیغمبر کے پیغمبر ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) ہوتا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنے بھی پیغمبر آئے، سب کے سب درجے کے اعتبار سے یکساں تھے (2:285)، لیکن رول کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا۔ پچھلے پیغمبروں کا رول زمانی رول تھا، اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا رول ابدی رول تھا۔ قرآن اور حدیث کی تصریح کے مطابق، کسی پیغمبر کو دوسرے پیغمبر کے اوپر شخصی فضیلت حاصل نہ تھی۔ پیغمبر ہونے کے اعتبار سے ایک کا جو درجہ تھا، وہی دوسرے کا درجہ بھی تھا۔ لیکن کار مفروضہ کی نسبت سے ہر ایک کی ضرورتیں الگ الگ تھیں۔ اِس بنا پر ہر ایک کو مختلف نوعیت کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader