Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کہا تھا کہ میں ظلّ نبی ہوں ، یعنی میں نبی کا سایہ ہوں۔ اس طرح کے قول کو ایک قسم کی دیوانگی تو کہا جا سکتا ہے، لیکن اس کو حقیقی معنوں میں دعوائے نبوت نہیں کہا جا سکتا۔ ہندو گروؤں کی مثال موجودہ زمانے میں ہندوؤں میں کچھ ایسے افراد پیدا ہوئے جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ وقت کے پیغمبر ہیں ، مگر یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ مثلاً دہلی کے نرنکاری بابا گربچن سنگھ (وفات 1980) کے بارے میں ایک پمفلٹ مجھے ملا، جس میں نرنکاری بابا کو وقت کا پیغمبر ( prophet of the time ) لکھا گیا تھا۔ میں اُن سے ان کے دہلی کے آشرم میں ملا، میں نے ان کی تقریر سنی اور ان سے گفتگو کی۔ لیکن معلوم ہوا کہ نرنکاری بابا کے کچھ معتقدین ان کے بارے میں ایسا کہتے ہیں۔ لیکن خود نرنکاری بابا نے اپنی زبان سے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اسی طرح کیرلا (تری وندرم) میں ایک مشہور ہندو گرو تھے ۔ اُن کا نام برہما شری کرونا کرا (وفات 1999) تھا ۔ تری وندرم میں ان کا ایک بڑا آشرم تھا، جس کا نام 'شانتی گری آشرم‘ ہے۔ اُن کے مشن کے کچھ لوگ مجھ سے دہلی میں ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بابا جی وقت کے پیغمبر ہیں۔ اس کے بعد میں نے خود کیرلا کا سفر کیا اور تری وندرم میں ان کے آشرم میں ان سے ملا۔ میں نے ان کے معتقدین سے پیشگی طور پر بتا دیا تھا کہ میں کس مقصد سے وہاں جا رہا ہوں۔ میں نے یہ سفر فروری 1999 میں کیا تھا۔ شانتی گری آشرم میں پہنچ کر میں اُن سے ملا۔ مجھے ایک خصوصی کمرے میں لے جایا گیا، جہاں بابا جی کے ساتھ اُن کے تقریباً پچاس معتقدین موجود تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے بابا جی برہما شری کرونا کرا سے ایک سوال کیا۔ اس کا جواب اُنھوں نے واضح لفظوں میں دیا۔ وہ سوال وجواب یہ تھا: Q: Do you calim that you are a prophet of God in the same sense in which Moses, and Jesus, and Muhammad claimed they were prophets of God. A: No, I don't make any such claim.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page