Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

برہان“ کہا گیا ہے۔ یہ دلیل پچھلے پیغمبروں کے لیے حسی معجزہ (physical miracle) کی صورت میں ہوتی تھی، لیکن پیغمبر اسلام کے لیے یہ دلیل تاریخ کی صورت میں ہے، ایک ایسی استثنائی تاریخ جو کسی اور انسان کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوئی۔ نبوت محمدی کا ثبوت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت، دوسرے پیغمبروں کی طرح، یہ ہے کہ آپ کی زندگی ایک تاریخی استثنا (historical exception) کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی یہی استثنائی حیثیت ہے جس کو قرآن کی سورۃ نمبر 17 میں ’مقام محمود‘ (praised state) بتایا گیا ہے (79 :18)۔ مقام محمود سے مراد مقام اعتراف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو انسانوں کے درمیان اعتراف کامل کا درجہ حاصل ہوگا۔ آپ کے گرد ایسی استثنائی تاریخ اکٹھا ہوگی کہ خود انسان کے اپنے مانے ہوئے معیار کے مطابق، آپ کی نبوت ایک مسلمہ نبوت بن جائے گی۔ قرآن میں ’مقام محمود‘ کی آیت سے مراد، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بارے میں مشہور امریکی مصنف ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوویسٹ پوائنٹ (lowest point)، 610ء کے بعد آیا، جب کہ مکہ کی ایک غیر مسلم خاتون اُم جمیل نے آپ کے پاس آ کر آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مذمّماً أبینا، یعنی تم ایک قابلِ مذمت شخص (condemned person) ہو، ہم تم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اس کے تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال بعد 1978 میں آپ کی زندگی کا ہائیسٹ پوائنٹ (highest point) آیا، جب کہ امریکا کے ایک غیر مسلم اسکالر ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے 570 صفحے کی ایک کتاب (The 100) میں اعلان کیا کہ ـــ محمد پوری انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page