اظہارِ دین
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پوری انسانی تاریخ میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر لحاظ سے آپ تمام انسانوں کے درمیان کامل طور پر ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ مستقبل کی تصدیق قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں اترا۔ اُس وقت قرآن کی سورہ حم السجدہ میں یہ اعلان کیا گیا کہ ـــ عنقریب ، ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی ، یہاں تک کہ اُن پر کُھل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:53)۔ اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدا نے جس صداقت کا اعلان کیا ہے، وہ ایک ابدی صداقت ہے۔ بعد کو آنے والی تاریخی تبدیلیاں اُس کو رد نہیں کریں گی، بلکہ وہ اس کی تصدیق کرتی چلی جائیں گی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ اعلان پوری طرح سچا ثابت ہوا۔ ظہورِ اسلام کے بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی تبدیلیاں ہوئیں اور پھر علومِ سائنس کا دور آیا، جو گویا کہ تاریخ کا سب سے بڑا فکری انقلاب تھا۔ مگر بعد کو پیش آنے والے ان انقلابات نے دین محمدی کی جُزئی یا کُلّی طور پر تردید نہیں کی، بعد کے زمانے میں پیش آنے والے تمام واقعات دین محمدی کی صداقت کا ثبوت بنتے چلے گئے ـــ اس قسم کا استثنا (exception) لمبی تاریخ میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ یہاں ہم اس تاریخی واقعے کے بعض پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔ توحید کی صداقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کے طور پر یہ اعلان کیا کہ خدا صرف ایک ہے۔ خدا کے سوا نہ کوئی خدا ہے اور نہ کوئی اس کا شریک۔ اُس وقت ساری دنیا میں انسان کے ذہن پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader