اظہارِ دین
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
سزا دینا اور سچے انسانوں کو اُن کے عمل کا انعام دینا، موجودہ محدود دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ انسانی ضمیر کے اِس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے، ایک ایسی دنیا جہاں خود خدا ظاہر ہو کر سب کا حساب لے اور انصاف کو قائم کرے ۔ یہ صورتِ حال اِس پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک یومِ الحساب (day of judgment) آنے والا ہے۔ اُس وقت خدائی طاقت کے ذریعے منصفانہ سماج کا وہ قیام ممکن ہو جائے گا، جو انسانی طاقت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ممکن نہیں ہوا تھا۔ پیغمبرانہ آئیڈیالوجی کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں ــــ قبل از موت دو رِ حیات، اور بعد از موت دو رِ حیات۔ اب یہ آخری طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اُس کامل دنیا کی تعمیر کے لیے ناکافی ہے جو انسان کا ضمیر چاہتا ہے۔ یہ مطلوب دنیا بلا شبہ بنے گی، لیکن وہ موت کے بعد کے وسیع تر دورِ حیات ہی میں بن سکتی ہے ــــ یہ مطلوب دنیا ایک زیرِ تعمیر دنیا ہے۔ اب وہ دن زیادہ دور نہیں، جب کہ یہ بننے والی مطلوب دنیا مکمل ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔ پیغمبرِ انقلاب قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے ۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔ پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طور پر توحید کا پیغام لے کر آئے، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader