مستقبل کی دنیا
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
قطعیت کے ساتھ کسی مفروضہ مادی جنت کی تعمیر میں مانع ہیں۔ اس معاملے میں درست اور مطابق واقعہ بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے تمام اسباب، امتحانی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ہیں۔ اگر یہ چیزیں بطور انعام ہوتیں، تو وہ اپنی ذات میں کامل ہوتیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہاں کی ہر چیز ناقص ہے اور ان چیزوں کا ناقص ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہی نظریہ درست ہے کہ یہ چیزیں امتحانی پرچے کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ انسان کو انعام کے طور پر نہیں دی گئیں۔ یہ قرینہ (clue) یہ ثابت کرتا ہے کہ اس معاملے میں پیغمبرانہ نظریہ ہی صحیح نظریہ ہے، یعنی یہ کہ موجودہ دنیا غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ اس کے بعد ایک اور دنیا بنے گی جو اس دنیا کا معیاری ورژن (perfect version) ہوگا۔ موت کے بعد بننے والی اس معیاری دنیا میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ امتحانی دنیا میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر چکے ہوں۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام سیکولر فلسفی اور مفکر اور رہنما ہزاروں سال سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ موجودہ دنیا میں منصفانہ سماج (just society) بنائیں، مگر ساری کوشش کے باوجود انہیں کامیابی نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ کہ ساری دنیا میں انارکی اور کرپشن اور استحصال اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اس معاملے میں مزید اضافہ ہوا۔ حتی کہ اب تمام قرائن کے مطابق، یہ ناممکن ہو چکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔ جدید ترقیوں نے لوگوں کے بگاڑ میں صرف اضافہ کیا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ انسان کا ضمیر ایک منصفانہ سماج چاہتا ہے۔ یہ ضمیر جس طرح پہلے، لوگوں کے اندر موجود تھا، اسی طرح وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ اب موجودہ حالات میں منصفانہ سماج کا قیام عملاً نا ممکن ہو چکا ہے۔ مثلاً موجودہ عدالتی نظام اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اُس سے اب انصاف کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ قوانین کی بھر مار کے باوجود صرف عدالت کی بے انصافیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ معاملہ دوبارہ ایک قرینہ (clue) ہے جو پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتا ہے، یعنی یہ کہ مجرموں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader