Urdu book · اظہارِ دین

پیغمبر انقلاب

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذکورہ الفاظ لکھے تھے، جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی نشانِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو محمودیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے (17:79)۔ چنانچہ نہ صرف اہلِ اسلام بلکہ عام مصنفین اور مورخین نے پیغمبرِ اسلام کی عظمت کو کھلے طور پر تسلیم کیا ہے۔ بارھویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان لڑائیاں پیش آئیں، جن کو صلیبی جنگ (crusades) کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں میں مسیحی قوموں کو شکست ہوئی۔ اُس کے بعد مسیحی مصنفین نے اسلام کے خلاف ایک قلمی جنگ چھیڑ دی۔ کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس سلسلے کو توڑنے والا پہلا قابلِ ذکر شخص اسکاٹ لینڈ کا ایک مصنف ٹامس کارلائل (وفات 1881) ہے۔ اُس نے جرات مندانہ طور پر اس رجحان کو بدلا۔ اُس کی مشہور کتاب ہیرو ورشپ (On Heroes, Hero Worship) پہلی بار 1841 میں چھپی۔ اس انگریزی کتاب میں اُس نے پیغمبرِ اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ اُس نے پیغمبرِ اسلام کو دوسرے تمام پیغمبروں کے مقابلے میں ”ہیرو“ کا درجہ دیا۔ اس کے بعد کثرت سے مختلف زبانوں میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں شائع ہوئیں ۔ ان کتابوں میں تاریخ میں آپ کے انقلابی رول کا کھلے طور پر اعتراف کیا گیا۔ مثلاً انڈیا کے ایک اسکالر ایم این رائے (وفات 1954) کی کتاب (Historical Role of Islam) 1939 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ پیغمبرِ اسلام، تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے۔ انھوں نے سب سے بڑا تاریخی معجزہ دکھایا: Every prophet establishes his pretentions by the performance of miracles. On that token, Muhammad must be recognised as by

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page