اظہارِ دین
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ پیشین گوئی آتی ہے کہ آپ کو مقامِ محمود کا درجہ عطا کیا جائے گا (17:79)۔ مقامِ محمودیت کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق، موجودہ دنیا سے ہے۔ موجودہ دنیا کی نسبت سے مقامِ محمود یہ ہے کہ آپ کو تاریخی اعتبار سے ایک مسلم نبوت (established prophethood) کا درجہ حاصل ہوگا۔ آپ سے پہلے جو انبیاء آئے، وہ مدوّن تاریخ میں ریکارڈ نہ ہو سکے۔ آپ کے سواہر ایک کی حیثیت، اعتقادی نبوت کی ہے نہ کہ تاریخی نبوت کی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو خدا نے آخری پیغمبر بنایا تھا۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی پیغمبرانہ زندگی کامل طور پر محفوظ ہو جائے، وہ تسلیم شدہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت حاصل کرلے۔ کیوں کہ قانون الہی کے مطابق، جب پیغمبر مستند تاریخی ریکارڈ کا درجہ حاصل کرلے تو اس کے بعد اُس کی لائی ہوئی کتاب اوراُس کی تعلیمات کا یہی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے، اس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ خاتم النبیین قرآن کی سورۃ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ : مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَکَانَ اللَّهُ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيْماً (33:40)۔ یعنی، محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں—رسول اللہ، اور خاتم النبیین۔ رسول اللہ ہونے کے اعتبار سے آپ دوسرے تمام رسولوں کی مانند تھے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ (2:285)۔ یعنی، رسول ہونے کے اعتبار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader