Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کرے، وہ ہدایتِ ربانی کے معاملے کو خود تاریخی عمل (historical process) میں شامل کر دے۔ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد یہ سب کچھ بہ تمام و کمال پیش آ گیا، اس لیے اب نبیوں کی آمد کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ تمام اضافی پہلو قرآن میں بتا دیے گئے ہیں۔ مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (8:39) یعنی، تم اُن سے قتال (جنگ) کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ اِس آیت میں 'فتنہ' سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قدیم بادشاہی زمانے میں لمبی مدت سے دنیا میں مذہبی جبر کا نظام قائم تھا۔ اِس قسم کا نظام نہ اچانک قائم ہوتا اور نہ وہ اچانک ختم ہوتا۔ اِس قرآنی حکم کا مدعا یہ تھا کہ تاریخِ بشری میں ایک ایسا عمل (process) جاری ہو جائے، جس کے نتیجے میں ایسا ہو کہ مذہبی جبر مکمل طور پر ختم ہو جائے اور اِس کے بجائے مذہبی آزادی کی حالت مکمل طور پر قائم ہو جائے۔ مذہبی آزادی (religious freedom) کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ وہ براہِ راست خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ خدا نے انسان کو امتحان (test) کے مقصد کے تحت اِس دنیا میں رکھا ہے۔ اِس مقصد کے تحت، دنیا میں آزادی کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ اِسی حکمت کی بنا پر پیغمبرِ اسلام کو استیصالِ فتنہ کا حکم دیا گیا اور اِس کے مطابق، آپ کے لیے اسباب فراہم کیے گئے۔ چنانچہ آپ نے اِس کام کو انجام دیا، یہاں تک کہ انسانی تاریخ میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دورِ کامل طور پر آ گیا۔ دعوت اور حجت خدا کی ہدایت کے دو پہلو ہیں — دعوت اور حجت۔ دعوت سے مراد یہ ہے کہ ہدایتِ الہی کو کسی کمی یا بیشی کے بغیر بتانا۔ خدا کا صحیح تعارف، خدا کے تخلیقی نقشے کا اعلان، جنت اور جہنم کے معاملے سے انسان کو باخبر کرنا، وغیرہ۔ انھیں حقیقتوں کی وضاحت کا نام دعوت ہے۔ دعوت کا یہ عمل تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانے میں کیا۔ نکاتِ دعوت کے اعتبار سے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page