اظہارِ دین
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ البتہ ایسا ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا دعوتی کلام اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا دعوتی ذخیرہ (قرآن اور حدیث) مکمل طور پر اپنی اصل زبان میں محفوظ ہو گیا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ بعد کی نسلیں بھی آپ کے دعوتی پیغام سے اُسی طرح باخبر ہوسکیں، جس طرح آپ کے ہم زمانہ لوگ باخبر ہوئے تھے۔ جہاں تک حجت کا سوال ہے، اُس کے دو درجے ہیں۔ روایتی استدلال اور علمی استدلال۔ استدلال ہمیشہ معلوم اشیا کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانی معلومات کا دائرہ روایتی اشیا تک محدود تھا، اِس لیے قدیم زمانے میں ہمیشہ روایتی استدلال پر اکتفا کیا گیا۔ مثلاً حضرت یوسف خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ 1910 تا 1800 قبل مسیح بتایا گیا ہے۔ انھوں نے قدیم مصر میں توحید کی دعوت دی۔ اُس وقت انھوں نے فرمایا: اے میرے جیل کے ساتھیو، کیا جُدا جُدا کئی معبود بہتر ہیں، یا اللہ اکیلا زبردست (12:39) ۔ یہ روایتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ مگر یہاں ایک اور استدلال موجود تھا، اور وہ تھا علمی استدلال (scientific reasoning) ۔ یہ استدلال وہ تھا جو خدا کی پیدا کردہ نیچر (فطرت) میں موجود تھا، مگر یہ استدلال قدیم زمانے میں صرف امکان کے درجے میں تھا، وہ ابھی تک واقعہ نہیں بنا تھا۔ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے جو انقلاب پیش آیا، اِس نے تاریخ میں ایک نیا پر اسس جاری کیا۔ اس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ یہ امکانی استدلال واقعہ بن کر سامنے آ گیا۔ فطرت کی تسخیر نیچر کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اُس سے مراد پوری دنیائے مخلوقات ہوتی ہے : Nature: The Sum total of all things in time and sapce; the entire physical universe. یہ نیچر ہمیشہ سے موجود تھا، لیکن قدیم زمانے میں انسان شرک میں مبتلا ہو گیا۔ شرک دراصل مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ چوں کہ انسان نیچر کو معبود کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader