ایک یادگار دن
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید تہذیب کی طرف سے جو فکری چیلنج پیدا ہوا، اس کا تعلق تمام مذاہب سے تھا۔ اس صورتِ حال کے پیدا ہونے کے بعد دورِ جدید میں کچھ نمایاں افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اپنے عقیدہ یا اپنے مذہب کو ماڈرن معیار پر پیش کرنے کا کام کیا۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات 1975) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ ہندوازم (Hinduism) پر گہرا عقیدہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ہندو ازم کو جدید معیار پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان کی دو کتابوں کے نام یہ ہیں: 1. A Source Book in Indian Philosophy, 1957 2. Recovery of Faith, 1956 ڈاکٹر رادھا کرشنن موجودہ زمانے کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے، تاہم یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے مقصد میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے جس مقدمے کی پیروی کی، وہ مقدمہ اپنے آپ میں کمزور تھا۔ اور جو مقدمہ اپنے آپ میں کمزور ہو، کوئی بڑے سے بڑا وکیل بھی اس کو مضبوط نہیں بنا سکتا۔ 1938 سے 1947 تک دس سال کا زمانہ میری زندگی میں بہت اہم زمانہ تھا۔ اس زمانے میں میرا دماغ افکار و نظریات کے اعتبار سے گویا کہ ایک میلٹنگ پاٹ (melting pot) بنا ہوا تھا۔ اُس زمانے میں پورے عالمِ اسلام میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی تھی۔ ہر تحریر اور ہر تقریر میں اسی کا چرچا ہوتا تھا۔ فطری طور پر میرا ذہن مختلف خیالات کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں پوری مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر فکری سرگرمیاں جاری تھیں۔ بہ ظاہر ان سرگرمیوں کے مختلف دھارے تھے، لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی، وہ یہ کہ یہ مختلف قسم کی سرگرمیاں اصلا ً ردِّ عمل کے تحت پیدا ہوئیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس زمانے میں مغربی قوموں نے جدید ذرائع کے بل پر پوری مسلم دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader