ایک یادگار دن
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سیاسی اور تہذیبی غلبہ حاصل کر لیا تھا۔ یہ صورتِ حال مسلم رہنماؤں کے لیے ناقابل قبول تھی۔ چنانچہ ہر ایک احیاء (revival) کے نام پر اٹھ کھڑا ہوا۔ ان سب کا مشترک نشانہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے قدیم دورِ عروج کو دوبارہ جدید تاریخ میں واپس لایا جائے۔ مسلمانوں کے اندر اگر یہ سرگرمیاں مثبت ذہن کے تحت پیدا ہوئی ہوتیں، تو ان کا ماڈل زمانہ رسالت ہوتا۔ اس ابتدائی ماڈل کی پیروی میں وہ دعوت الی اللہ کو اپنا نشانہ بناتے۔ لیکن ان سرگرمیوں کا سرچشمہ چونکہ منفی رد عمل تھا، اس لیے عملاً بعد کو قائم ہونے والا دورِ تاریخ لوگوں کا ماڈل بن گیا۔ لوگ عباسی سلطنت، اور عثمانی سلطنت، اور مغل سلطنت کے زمانے کو دوبارہ واپس لانے کے نشانے کے تحت، سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ان سرگرمیوں کے دو بڑے دھارے تھے— احیاءِ خلافت، اور احیاءِ جہاد۔ ان دونوں دھاروں کے تحت بیسویں صدی عیسوی میں غیر معمولی کوششیں کی گئیں، لیکن اپنے مطلوب نشانے کے اعتبار سے یہ کوششیں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ صرف دورِ قدیم کی مسلم تاریخ کو جانتے تھے، اور اسی قدیم ماڈل کو دوبارہ واپس لانے کے لیے وہ سرگرمِ عمل ہو گئے۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ کامیابی کے لیے دوسری ضروری چیز جو مطلوب ہے، وہ رعایتِ زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کے طریقے پوری طرح بدل چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی بے خبری کی بنا پر اس تبدیلی کی رعایت نہ کر سکے، اس لیے وہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہے۔ دوسرا فکری دھارا وہ تھا جس کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ اسلام کو اس کی مطلوب اہمیت حاصل نہ ہو سکے گی۔ اس نقطہ نظر کے حامل ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے لکھا تھا کہ — آج ضرورت ہے کہ قرآن دوبارہ نازل ہو: The Quran has to be re-revealed today. اس دوسرے فکری دھارے کو امت میں قبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ یہ لوگ صرف ایک قسم کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader