ذہین کائنات
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہین کائنات کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں، اور ہر چیز مرکب (compound) کی صورت میں ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایٹم، کائنات کا ایک ایسا واحد ہے جو مفرد (single) ہے اور غیر مرکب حالت میں ہے۔ مگر آئن سٹائن کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا تو معلوم ہوا کہ ایٹم بھی مرکب ہے، وہ کوئی مفرد چیز نہیں۔ دور جدید میں ہر چیز کا سائنسی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چیزیں جن اشیا سے ترکیب پا کر بنتی ہیں، ان کی ترکیب کے لیے ہمیشہ بہت سے آپشن (options) موجود ہوتے ہیں، مگر سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ نیچر ہمیشہ یہ کرتی ہے کہ بہت سے آپشن میں سے اُسی ایک آپشن کو لیتی ہے جو کائنات کی مجموعی اسکیم کے عین مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز بالکل پرفیکٹ نظر آتی ہے، اس دنیا کی ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ یہ اصول جو کائنات میں رائج ہے، اْس کو ایک لفظ میں ذہین انتخاب ( intelligent selection) کہہ سکتے ہیں۔ کائنات میں بلین، ٹری لین سے بھی زیادہ چیزیں موجود ہیں، لیکن ہر چیز بلا استثناء، اِسی ذہین انتخاب کی مثال ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ ایک سائنس داں ڈاکٹر فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے اسی موضوع پر ایک کتاب تیار کر کے شائع کی ہے، اْس کا نام ہے— ذہین کائنات (The Intelligent Universe)۔ یہ کتاب ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے اور 1983 میں لندن سے چھپی ہے۔ کائنات کا یہ ظاہر ہ (phenomenon) کوئی سادہ بات نہیں، وہ خدا کے وجود کا ایک حتمی ثبوت ہے۔ کائنات کی بناوٹ میں ذہانت (intelligence) کی موجودگی واضح طور پر ایک اور بات ثابت کرتی ہے۔ ذہین تخلیق (intelligent creation) واضح طور پر ذہین خالق (intelligent creator) کا ثبوت ہے۔ منطقی طور پر یہ ناقابلِ قیاس ہے کہ یہاں ذہین عمل موجود ہو، لیکن ذہین عامل یہاں موجود نہ ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بلاشبہ لازم اور ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader