ذہین کائنات
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
ذ ہین عمل کو ماننے کے بعد ذہین عامل کو نہ ماننا، ایسا ہی ہے جیسے ایک پیچیدہ مشین کو ماننے کے بعد اُس کے انجینئر کو نہ ماننا۔ ڈاکٹر فریڈ ہائل نے اپنی کتاب میں درست طور پر لکھا ہے کہ سائنس کے ابتدائی دور میں مسیحی چرچ نے سائنس دانوں کے خلاف جو متشددانہ کارروائی کی، وہ ابھی تک لوگوں کو یاد ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ یہ اعلان کردیں کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین خالق کے وجود کا ثبوت مل رہا ہے تو قدیم مذہبی تشدد شاید دوبارہ واپس آجائے گا۔ مگر یہ ایک بے بنیاد خوف ہے۔ ذہین خالق کے سائنسی اعتراف کے بعد جو چیز تاریخ میں واپس آئے گی، وہ سچا خدائی مذہب ہے، نہ کہ مسیحی چرچ۔ دو انتخاب (options) کائنات میں جو غیر معمولی نظم اور تناسب پایا جاتا ہے، اس کی توجیہ کے لیے ہمارے پاس دو انتخاب (options) ہیں۔ ایک، یہ کہ کائنات اپنی ناظم آپ ہے۔ مگر سائنس کی تمام تحقیقات اس کی تردید کرتی ہیں۔ اس لیے کہ سائنس نے کائنات میں جس نظم کو دریافت کیا ہے، وہ مکمل طور پر ایک ذہین نظم (intelligent design) ہے۔ دوسری طرف سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ خود کائنات کے اندر سب کچھ ہے، لیکن وہی چیز اس کے اندر موجود نہیں جس کو ذہانت (intelligence) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی دریافت کردہ کائنات، بیک وقت کامل طور پر منظم (designed) ہے اور اسی کے ساتھ وہ کامل طور پر غیر ذہین (non-intelligent) ہے۔ ایسی حالت میں کائنات کو اپنے نظم کا خود ناظم سمجھنا، ایسا ہی ہے جیسے پتھر کے اسٹیچو کے بارے میں یہ فرض کر لیا جائے کہ اس نے اپنی با معنیٰ ڈیزائن خود تیار کی ہے۔ وہ ایک خود تخلیقی وجود (self-created being) ہے۔ اس کے بعد ہمارے پاس کائنات کی توجیہ کے لیے صرف ایک آپشن باقی رہتا ہے، اور وہ یہ کہ ہم ایک خارجی ایجنسی (outside agency) کو کائنات کے نظم کا سبب قرار دیں۔ اس ایک انتخاب کے سوا، کوئی دوسرا انتخاب ہمارے لیے عملی طور پر ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader