فکر مغرب
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
فکرِ مغرب فکرِ مغرب (western thought) کیا ہے۔ فکرِ مغرب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، سائنسی طرزِ فکر (scientific thinking) کا نام ہے، اور سائنسی طرزِ فکر پورے معنوں میں ایک درست طرزِ فکر ہے۔ وہ بجائے خود اسلامی فکر نہیں ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک موافقِ اسلام طرزِ فکر ہے۔ وہ اسلام کے حق میں ایک مؤیّد علم (supporting knowledge) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصل مغربی فکر نہ غیر اسلامی فکر ہے اور نہ وہ کسی بھی اعتبار سے، اسلام دشمن فکر ہے۔ قرآن کی سورۃ الاحقاف میں یہ آیت آئی ہے: قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَّا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شُرْكُ فِي السَّمَاوَاتِ ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (4:4) ۔ یعنی، کہو کہ کیا تم نے غور کیا اُن چیزوں پر جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے زمین میں کیا بنایا ہے، یا آسمانوں میں ان کی کچھ شرکت ہے۔ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ، یا کوئی علم جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔ مفسر ابن کثیر (وفات 774 ہجری) نے درست طور پر لکھا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں دو قسم کے علم کو۔ بطورِ مستند علم (authentic knowledge) تسلیم کیا گیا ہے— ایک، علم نقلی اور دوسرا علم عقلی۔ علم نقلی سے مراد مبنی بروحی علم ہے اور علم عقلی سے مراد وہ علم ہے جو عقلِ انسانی پر مبنی ہو۔ تاہم علم عقلی سے مراد صرف وہ علم نہیں ہے جو عباسی دور کے معتزلہ اور متکلمین کے درمیان پایا جاتا تھا، بلکہ توسيعی طور پر اس سے مراد سائنسی دور کا وہ جدید علم بھی ہے جس کو عقلی علم (rational knowledge) کہا جاتا ہے۔ اس جدید عقلی دور کا آغاز اٹلی کے سائنس دان گلیلیو (Galieo Galilei) سے ہوا۔ گلیلیو کی وفات 78 سال کی عمر میں 1642 میں ہوئی۔ گلیلیو پہلا شخص ہے جس نے دوربین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader