ایک یادگار دن
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
اصول کو تدریج کا اصول کہہ سکتے ہیں، یعنی عوام کی استعداد کے مطابق ، احکام کا تدریجی نفاذ، نہ کہ ان کا بیک وقت نفاذ۔ موجودہ دنیا بچوں کے امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے، اس لیے یہاں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی خود خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے، اس لیے کوئی بھی طاقت اس کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ تجربہ ہے کہ انسان زیادہ تر اس آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوا کہ تاریخ میں کبھی معیاری نظام نہ بن سکا، اور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ مومن اور غیر مومن دونوں مجبور ہیں کہ اس غیر معیاری دنیا میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ— اس دنیا میں معیار کبھی حاصل نہیں ہو سکتا: The Ideal can not be achieved in this world. اس صورت حال کی بنا پر اسلام کا اصول یہ ہے کہ معیار کے حصول کے لیے جنگ نہ کی جائے، بلکہ کسی صورت حال میں عملی طور پر جو ممکن ہو، اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ اس اصول کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو ہر صورت حال میں فوراً ہی ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے۔ ہر صورت حال میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی فوری طور پر اپنے عمل کا نقشہ بنائے، تا کہ جو کچھ آج قابلِ حصول نہ تھا، وہ مستقبل میں قابلِ حصول ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader