Urdu book · اظہارِ دین

تائیدی علم

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

تائیدی علم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اُس حدیث رسول کی مصداق ہے جو پیشین گوئی کی زبان میں اِن الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ فطرت میں سائنسی تحقیق کے ذریعے جو دریافتیں وجود میں آئیں، وہ خاص طور پر دواعتبار سے، اسلام کے لیے غیر معمولی تائید کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ایک قسم کی تائید وہ تھی جو اِس سائنس کے ذریعے حاصل ہوئی جس کو نظریاتی سائنس (theoretical science) کہا جاتا ہے۔ اور اسلام کے لیے دوسری تائید وہ تھی جس کو اصطلاحی طور پر انطباقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ نظریاتی سائنس نے یہ کیا کہ اس نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے وہ قوانین دریافت کیے جو اب تک غیر معلوم تھے۔ ان قوانین کے بارے میں اشارات قرآن میں موجود تھے، لیکن قرآن میں ان کی تفصیل موجود نہ تھی۔ اہل ایمان کو ابھارا گیا کہ وہ زمین و آسمان میں غور کر کے ان تفصیلات کو دریافت کریں، جو کہ ان کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ ہیں۔ لیکن بعد کے زمانے کے مسلمان یہ کام نہ کر سکے۔ آخر کار، اللہ تعالیٰ نے اہل سائنس کے ذریعے یہ کام لیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہی منصوبہ ہے جس کو قرآن میں مستقبل کی پیشین گوئی کے طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا (50:9)۔ یعنی، ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اس آیت میں اُس آفاقی تطہیر کا ذکر ہے جس کو موجودہ زمانے میں ازالہ نمک (desalination) کہا جاتا ہے۔ پانی کا ذخیرہ جو سمندروں میں جمع ہے، اُس میں تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر تین فی صد نمک ملا ہوا ہے۔ یہ نمکین پانی انسان کے لیے ناقابل استعمال ہے۔ یہاں فطرت کے قانون کے مطابق، ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page