Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

عظیم آفاقی عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے سمندر کا پانی نمک سے الگ ہو کر اور فضا میں جاتا ہے اور پھر بارش کی صورت میں خالص پانی زمین کی طرف لوٹاتا ہے جس کو انسان اپنی ضرورتوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں، مبارک کے لفظ کی صورت میں اُس کا اشارہ موجود تھا، لیکن اس کی تفصیل ہزار سال بعد جدید سائنس نے معلوم کی۔ انطباقی سائنس (applied science) کے ذریعے اسلام کو بہت سے تائیدی ذرائع حاصل ہوئے۔ مثلاً پرنٹنگ پریس اور کمیونیکیشن۔ ان جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ اسلام کی اشاعت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ اللہ تعالی کو اول دن سے یہ مطلوب تھا کہ دین حق کو دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے، لیکن جدید ذرائع کے وجود میں آنے سے پہلے اس کا امکان ہی نہ تھا۔ تاریخ میں پہلی بار یہ امکان جدید انطباقی سائنس کے ذریعے پیدا ہوا ہے۔ عالمی دعوت کا امکان حدیث میں اسلامی دعوت کے ایک امکان کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی، زمین کی سطح پر کوئی گھر ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں صدی میں جب کہ اسلام کا ظہور ہوا، اُس وقت سے یہ اسلامی دعوت کا نشانہ تھا کہ اسلام کا کلمہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام مردوں اور عورتوں تک پہنچ جائے ۔ مگر ایک ہزار سال تک یہ نشانہ عملاً پورا نہ ہو سکا، کیوں کہ اسباب کی اس دنیا میں اس نشانے کو پورا کرنے کے لیے عالمی ذرائع درکار تھے، جو کہ پچھلے ادوار میں موجود نہ تھے۔ دور جدید میں سائنس نے پہلی بار یہ موافق ذرائع فراہم کیے ۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ حدیث کی تشریح ان الفاظ میں کرنا درست ہوگا کہ ـــ بعد کے زمانے میں ایسا ہوگا کہ اللہ کی توفیق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page