Urdu book · اظہارِ دین

عصری ذہن

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

واحد کارآمد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، انھوں نے کھلے طور پر تسلیم کیا کہ سائنس پورے علم حقیقت کا احاطہ نہیں کرتی، وہ حقیقت کا صرف جزئی علم دیتی ہے : Science gives us but a partial knowledge of reality. سائنسی طریق مطالعہ اپنی عملی کامیابی ، نہ کہ نظری صداقت کی بنا پر موجودہ زمانے میں بہت زیادہ عام ہو گیا، حتی کہ فلاسفہ اور مفکرین نے بھی اسی طرز فکر کو اختیار کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جس طرح فطرت (nature) کا مطالعہ موضوعی انداز میں کرتے تھے ، اسی طرح وہ مذہب کا مطالعہ بھی موضوعی انداز میں کرنے لگے۔ وہ مذہب کو الہامی ظاہرہ (revealed phenomenon) تسلیم کرنے کے بجائے ، اس کو صرف ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon) سمجھنے لگے۔ وہ اپنے مزاج کے مطابق ، پیغمبر اور پیغمبر کے کام کا اُسی طرح تجزیہ کرنے لگے جس طرح وہ مادی چیزوں کا تجزیہ کر رہے تھے۔ جدید مفکرین کا یہ طریقہ از روئے حقیقت درست نہ تھا، لیکن اس کا سبب عناد یا سازش نہ تھی، بلکہ وہ اُن کے اختیار کردہ طریق مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ اگر چہ یہ طریقہ مذہب کے خلاف تھا ، مگر وہ کسی بد نیتی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ بطور خود اُسی کو درست طریق مطالعہ سمجھتے تھے۔ سنجیدگی کے ساتھ ان کا یہ یقین تھا کہ یہ طریقہ جس طرح مظاہر فطرت کے مطالعے میں کامیاب ثابت ہوا ہے، اسی طرح وہ وحی والہام کے مظاہر کے مطالعے میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔ سائنس دانوں نے جو کام کیا ، وہ تائید (support) کے اعتبار سے ، اہلِ اسلام کے لیے انتہائی مفید تھا، لیکن مسلم ذہن اپنی منفی سوچ کی بنا پر اس فرق کو سمجھ نہ سکا۔ انھوں نے نئے دور میں پیدا ہونے والی مغربی تہذیب کو کلی طور پر اسلام دشمنی کا کیس قرار دے دیا، حالانکہ اگر وہ اس معاملے میں غیر جانب دارانہ انداز میں اہل مغرب کے کیس کو سمجھتے تو وہ جان لیتے کہ اہل مغرب کا کام، خود پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کے مطابق، باعتبار نتیجہ، تائید دین کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تخریب دین کا معاملہ نہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page