عصری ذہن
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
سترھویں صدی کے آغاز میں عام طور پر روایتی طرز فکر کا غلبہ تھا۔ اُس وقت گلیلیو کا یہ اعلان ایک دھما کہ خیز واقعہ ثابت ہوا۔ اُس وقت مسیحی چرچ یورپ میں روایتی طرز فکر کا نمائندہ تھا۔ مسیحی پوپ کو یورپ کا بے تاج بادشاہ (uncrowned king) سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ مسیحی چرچ اور سائنس دانوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں سائنس دانوں کو فتح ہوئی۔ مسیحی چرچ کے اختیار کا دائرہ دن بدن سمٹنے لگا، یہاں تک کہ 1929 میں حکومت اٹلی اور مسیحی پوپ کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو لیٹران معاہدہ (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق، مسیحی چرچ اس پر راضی ہو گیا کہ اس کا دائرہ اختیار روم کے ایک مختصر علاقہ ویٹکن (Vatican) تک محدود رہے گا جس کا کل رقبہ صرف 109 ایکڑ ہے۔ اس طرح تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو سائنس کا دور کہا جاتا ہے۔ اگر اس واقعے کو مذہبی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو اس دور کو ایمان بالغیب کے بجائے ایمان بالشہود کا دور کہا جائے گا۔ اس دور میں فطرت کا مطالعہ مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں فطرت کے اندر چھپے ہوئے بے شمار رموز دریافت ہوئے جواب تک انسان کے لیے غیر دریافت شدہ بنے ہوئے تھے ۔ اس کے نتیجے میں نئی ٹیکنالوجی، نئی صنعتیں، نئے ذرائع و وسائل انسان کی دسترس میں آگئے۔ یہ نئی مسحور کن دنیا تمام تر آبجیکٹیو مطالعہ (objective study) کے ذریعے انسان کی دسترس میں آئی تھی۔ اس میں مبنی بروحی مطالعہ کا بظاہر کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ دور بظاہر سائنس دانوں کی تحقیقات کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اس دور کا ایک عملی نتیجہ یہ تھا کہ قابل پیمائش (measurable) کو ناقابل پیمائش (non-measurable) سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں علمی دنیا میں فکر کا وہ طریقہ رائج ہوا جس کو موضوعی طریق مطالعہ (objective method of study) کہا جاتا ہے۔ اس طریقے کی عملی کامیابی کی بنا پر اس کو موجودہ دور میں رواج عام حاصل ہو گیا۔ سائنس دانوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اُن کا طریق مطالعہ تمام حقائق کو جاننے کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader