اظہارِ دین
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
مرحلہ مسلم مجاہدین کے ذریعے انجام پایا۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس کے بعد بنو امیہ کے دور اور بنو عباس کے دور اور دوسری مسلم سلطنتوں کے دور میں یہ ہوا کہ دنیا کے تقریباً پورے آباد حصے میں مسلم مجاہدین نے قدیم طرز کے سیاسی نظام کو توڑ ڈالا۔ اس عمل کی تکمیل انیسویں صدی عیسوی میں یورپ میں ہوئی ۔ اس زمانے میں بڑے بڑے سیاسی مفکرین (political thinker) پیدا ہوئے ۔ مثلاً روسو، وغیرہ۔ ان لوگوں نے قدیم زمانے کے جابر حکمرانوں (despotic kings) کے خلاف طاقت ور کتابیں لکھیں ۔ یہ کتابیں چھپ کر پورے یورپ میں پھیل گئیں ۔ اس کے بعد عملی انقلاب کے لیے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھیں ۔ اس کی تکمیل 1879 میں ہوئی، جب کہ وہ تاریخی واقعہ پیش آیا جس کو فرنچ انقلاب (French Revolution) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد قدیم طرز کا بادشاہی نظام عملاً ختم ہو گیا اور دنیا میں بڑے پیمانے پر جمہوری نظام قائم ہو گیا۔ سائنس کا دور قدیم بادشاہی نظام میں آزادانہ سوچ کا ماحول موجود نہ تھا۔ بادشاہ ہر نئی فکر کو کچل دیتے تھے۔ مثال کے طور پر رومن ایمپائر تقریباً دو ہزار سال تک قائم رہا۔ مگر اس طویل مدت میں کوئی سائنسی دریافت نہ ہوسکی ۔ موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو انسان کو مکمل معنوں میں فکری آزادی حاصل ہوگئی۔ اب فطرت (nature) میں آزادانہ تحقیق کا عمل شروع ہو گیا ۔ اس کے نتیجے میں فطرت میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ دور پیدا ہو گیا جس کو جدید سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس کے دو پہلو ہیں ـــ نظری سائنس (theoratical science) اور انطباقی سائنس (applied science)۔ نظری سائنس میں تحقیقات کے ذریعے عالم فطرت کے اُن مخفی قوانین کا ایک حصہ دریافت ہوا جس کو قرآن میں آیات اللہ (sign of God) کہا گیا ہے ۔ ان قوانین کی دریافت کا یہ عظیم فائدہ ہوا کہ دین خداوندی کے معتقدات مسلمہ انسانی علم کی بنیاد پر ثابت شدہ بن گئے ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ”مذہب اور جدید چیلنج“)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader