Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

اقوام متحدہ قدیم زمانے میں انسانی آبادی مختلف الگ الگ حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اُس وقت وہ وسائل موجود نہ تھے جس کے ذریعے یہ ممکن ہو کہ دنیا کے تمام انسانوں کی عالمی تنظیم قائم کی جاسکے۔ موجودہ زمانے میں نئے حالات نے ساری دنیا کو ایک گلوبل ولیج (global village) کی حیثیت دے دی ہے۔ اب زمین کے ایک کونے میں بسنے والا انسان زمین کے دوسرے کونے میں بسنے والے انسان سے کامل طور پر مربوط ہے۔ حالات کے اس نئے تقاضے کے تحت 1920 میں ایک عالمی تنظیم قائم ہوئی جس کا نام لیگ آف نیشنس (League of Nations) تھا۔ اِس کے بعد 1945 میں زیادہ بڑے پیمانے پر ایک اور عالمی تنظیم قائم ہوئی جس کا نام اقوام متحدہ ہے۔ اقوامِ متحدہ اپنے مختلف اداروں کے ساتھ اب ایک مستحکم عالمی تنظیم بن چکی ہے اور اس میں دنیا کے تمام ممالک شامل ہیں جن کی تعداد تقریباً دو سو ہے۔ اقوامِ متحدہ موجودہ زمانے میں ایک بین اقوامی نعمت (international blessing) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس کے بہت سے اجتماعی فائدے ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اقوامِ متحدہ کے عالمی پلیٹ فارم کی بنا پر تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں نے باقاعدہ طور پر اور سرکاری طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ ان کے شہریوں کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ آزادی کے اِس حق کے ذریعے موجودہ زمانے میں کام کے ایسے مواقع (opportunities) کے دروازے کھل گئے ہیں جو اس سے پہلے پوری تاریخ میں انسان کے اوپر یکسر بند پڑے ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے ذریعے حاصل ہونے والے انسانی حقوق بلاشبہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس نعمت سے بے خبر صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اپنی قومی خواہشوں میں جیتے ہوں اور اُس کو خود ساختہ طور پر معیار کا درجہ دیے ہوئے ہوں۔ خلاصہ کلام موجودہ زمانے میں دنیا کے نظام میں جو دور رس تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، وہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا منتہا (culmination) ہیں۔ ساتویں صدی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page