Urdu book · اظہارِ دین

خلاصہ کلام

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

عیسوی میں رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے عرب اور اطرافِ عرب میں جو انقلاب آیا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تاریخی انفجار(historical explosion) کے ہم معنی تھا۔ یہ اللہ کا ایک منصوبہ تھا جس کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اس انقلاب کا مقصد دنیا میں کوئی معیاری نظام (ideal system) قائم کرنا نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے دنیا میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جس میں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر چیز ہر انسان کے لیے ہو جائے۔ اسی کے ساتھ دینی نقطہ نظر سے یہ مطلوب تھا کہ اہل ایمان کے لیے ایک طرف یہ ممکن ہو جائے کہ وہ کھلے طور پر اعلیٰ معرفت کے درجات طے کر سکیں اور اسی کے ساتھ اُن کو اس بات کی کامل آزادی حاصل ہو کہ وہ دعوتِ الی اللہ کے پرامن کام کو آخری حد تک انجام دے سکیں۔ یہ تمام مطلوب فائدے موجودہ زمانے میں کامل طور پر حاصل ہو گئے ہیں۔ اب انسان کے اوپر حصول معرفت کے بھی تمام دروازے کھل چکے ہیں اور دعوتی عمل کے تمام مواقع بھی۔ یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے کہ یہ کہنا کسی مبالغے کے بغیر درست ہے کہ دورِ جدید اسلام کا دور ہے۔ اکیسویں صدی میں قرآن کی وہ پیشین گوئی آخری حد تک پوری ہو چکی ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی تھی: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا (48: 28)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اُس کو تمام دینوں پر غالب کر دے، اور اللہ کافی گواہ ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں وقتی اعتبار سے کسی سیاسی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اِس میں اللہ کے ایک تاریخی منصوبے کا ذکر ہے جس کو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہونا تھا اور پھر لمبے عمل کے بعد اپنی تکمیل تک پہنچنا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ خدائی منصوبہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب اہل ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ان عالمی مواقع کو جانیں اور ان کو بھر پور طور پر استعمال (avail) کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page