مغربی کلچر
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
On Heroes, Hero-Worship and the Heroic in History (1841) by Thomas Carlyle اِس طرح، سائنسی تہذیب کے تحت فطرت کا جو مطالعہ شروع کیا گیا، اِس کے نتیجے میں فطرت کے بہت سے راز دریافت ہوئے۔ رموزِ فطرت کی یہ دریافت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، آیات اللہ (signs of God) کے انکشاف کے ہم معنی تھی۔ اِن دریافتوں کے نتیجے میں یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی صداقتوں کو وقت کے مسلمہ علمی معیار کی سطح پر ثابت شدہ بنایا جا سکے۔ اِس سلسلے میں ہوا رقم الحروف کی کتاب۔ مذہب اور جدید چیلنج جو عربی میں 'الإسلام يُتَحَدّى' کے نام سے چھپی ہے۔ اِس کتاب کا انگریزی ایڈیشن گڈ آرائز یز (God Arises) کے نام سے چھپ چکا ہے۔ اِس طرح مغربی تہذیب کے تحت دنیا میں اور کئی چیزیں وجود میں آئیں جو علمی طور پر مفید ہونے کے علاوہ، خود اسلام کے لیے بے حد مفید تھیں۔ مثلاً فکری آزادی، مذہبی تنگ نظری کا خاتمہ، جمہوریت کا عالمی فروغ، عالمی سیاحت (world tourism) جس کا مطلب یہ تھا کہ مدعو خود داعی کے پاس بڑی تعداد میں پہنچنے لگا، وغیرہ۔ اِس طرح مغربی تہذیب کے تحت ایک دور وجود میں آیا جس کو دورِ مواصلات کہا جاتا ہے۔ اِس کے تحت پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا جیسی چیزیں وجود میں آئیں جو اسلام کی دعوت واشاعت کے اعتبار سے، بلاشبہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مغربی تہذیب کے تحت موجودہ زمانے میں اِس طرح کی بہت سی مفید چیزیں وجود میں آئی ہیں۔ چونکہ مغربی قو میں اور دوسری قومیں بھی اِن چیزوں کا اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اِس لیے مسلمان اِس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے، مگر اِس دنیا میں خود اللہ تعالیٰ نے ہر عورت اور مرد کو آزادی عطا کی ہے۔ اِس دنیا کے جو فطری وسائل (means) ہیں، اُن کو ہر ایک اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ اِس طرح تہذیبی وسائل کو بھی ہر گروہ اپنے اپنے حق میں استعمال کرے گا۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے میں خدائی منصوبے کو سمجھیں اور حقیقت پسندانہ روش اختیار کریں۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ سورج صرف مسلم بستیوں میں چمکے اور غیر مسلم بستیوں میں اندھیرا چھایا رہے، اِس طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ فطرت میں چھپی ہوئی نعمتوں کو مسلمان تو اپنے حق میں استعمال کریں اور غیر مسلم ان کو اپنے حق میں استعمال کرنے سے محروم رہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader